شعیب ملک کو کپتان بنا دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کئی سینئر کھلاڑیوں کو نظر انداز کر کے نسبتاً نوجوان کھلاڑی آل راؤنڈر شعیب ملک کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کپتان مقرر کردیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ شعیب ملک اس سال کے آخر تک ٹیم کے کپتان بنائے گئے ہیں تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا پورا موقع ملے اور انہیں ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں ٹیموں کے لیے کپتان بنایا گیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ ان کے خیال میں شعیب ملک اس عہدے کے لیےسب سے بہتر شخص ہیں اور ان کا انتخاب کا فیصلہ ماہرین اور ایڈہاک کمیٹی نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کرکٹ کی بہت سمجھ ہے اور امید ہے کہ یہ ذمہ داری بہت بہتر طور پر نبھائیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا شعیب ملک کی کپتانی کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیم کے سینیر کھلاڑیوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے اس سلسلے میں چیئرمین پی سی بی ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ یہ بورڈ کا فیصلہ ہے اور انہیں یقین ہے کہ جو بھی کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے اس کی سب جونیئر اور سئنیر کھلاڑی حمایت کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ شعیب ملک کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ جونیئر اور سئنیر تمام کھلاڑیوں سے بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کروا سکتے ہیں کیونکہ یہ سب پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے نائب کپتان کا اعلان نہیں کیا اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کے خلاف ابو ظہبی میں ہونے والی سیریز کے لیے کیمپ 30 اپریل سے لگایا جا رہا ہے اور اس کیمپ کے دوران نائب کپتان کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم کے دو بڑے کیمپس لگائے جائیں گے ایک جون میں ایبٹ آباد میں لگایا جائے گا اور دوسرا جولائی ہیں دو ہفتوں کے لیے کوئٹہ میں اور دو ہفتوں کے لیے کراچی میں لگایا جائے گا۔ ان کیمپس میں ان تمام کھلاڑیوں شامل ہوں گے جو مستقبل میں پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئی سلیکشن کمیٹی کا بھی باقائدہ تعارف کروایا اور کہا کہ یہ کمیٹی سلیکشن سے متعلقہ تمام فیصلوں میں خود مختار ہو گی اور ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہو گا البتہ کمیٹی کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ کھلاڑی کی سلیکشن میں اس کی سو فیصد فٹنس کا پورا خیال رکھا جائے۔ اس پریس کانفرنس میں نئی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین صلاح الدین صلو نے بھی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انصاف کی کرسی ہے اور وہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں مکمل انصاف کریں گے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ |
اسی بارے میں کپتانی کی دوڑ میں کون کون شامل ہے15 April, 2007 | کھیل کپتان کا اعلان جلد کرنا چاہیئے: شعیب18 April, 2007 | کھیل انضمام الحق مستعفی ہو گئے19 March, 2007 | کھیل یونس خان کا کپتانی سے انکار13 April, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||