BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 April, 2007, 21:16 GMT 02:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باربیڈوس میں بڑا مقابلہ

ڈیو واٹمور
کوچ واٹمور کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کو مزید محنت کرنا ہو گی
باربیڈس میں بدھ کو انگلستان اور بنگلہ دیش عالمی کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے اپنے اہم ترین میچ میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

کسی بھی ٹیم کے ہارنے کی صورت میں اس کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات بالکل ختم ہوجائیں گے۔

سپر ایٹ مرحلے میں یہ بنگلہ دیش اور انگلینڈ دونوں کا ہی چوتھا میچ ہے اور دونوں ٹیمیں اب تک کے میچوں سے صرف ایک میچ جیت سکی ہیں اور دونوں کے اب تک صرف دو دو پوائنٹس ہیں۔

لیکن بنگلہ دیش کو انگلینڈ پر نفسیاتی طور پر ذرا سبقت حاصل ہے کہ اس نے اپنے پچھلے میچ میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کو سڑسٹھ رن کے بڑے فرق سے ہرایا تھا۔

جبکہ دوسری طرف انگلینڈ اپنا آخری میچ آسٹریلیا کے خلاف ہار چکی ہے۔ اسی سوال پر کہ جنوبی افریقہ کو ہرانے کے بعد کیا بنگلہ دیش انگلینڈ کے خلاف زیادہ پراعتماد انداز میں میدان میں اترے گا، کوچ ڈیو واٹمور کا کہنا تھا کہ اس کا سیدھا سا جواب تو یہی ہے کہ ہاں یہ بات ٹھیک ہے۔

ڈیو واٹمورنے بتایا کہ ٹیم کے سامنے یہ بات بھی ہے کہ گیانا میں پچ اور گراؤنڈ کے حالات بنگلہ دیش کے لیے زیادہ اچھے تھے لیکن کھلاڑی پھر بھی ایک کڑے مقابلے کے بعد ہی جیت سکے تھے۔

ڈیو واٹمور کا یہ بھی کہنا تھا بنگلہ دیش ہر میچ کو ایک علیحدہ میچ کے طور پر کھیل رہا ہے اور ابھی یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ ٹیم سیمی فائنل میں ضرور پہنچ پائے گی یا نہیں۔

اپنی ٹیم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ تمام کھلاڑی بالکل فٹ ہیں لیکن پچھلے میچوں کی طرح ٹیم کا اعلان ایک دن پہلے اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ وکٹ کے بارے میں پوری طرح پتہ نہیں کہ وہ کیسی ہے۔

باربیڈوس کے کینسنگٹن اوول اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے ان فارم اوپنر ائین بیل نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی ٹیم بنگلہ دیش کو بالکل کمزور نہیں سمجھ رہی کیونکہ بنگلہ دیش دو مضبوط ٹیموں کو پہلے ہی ہرا چکا ہے۔

ائین بیل
ٹیم بنگلہ دیش کو بالکل کمزور نہیں سمجھ رہی

انہوں نے یہ بات مانی کہ اچھا اچھا کھیلتے بیٹنگ اچانک ناکام ہونے سے ٹیم فکر مند ضرور ہے۔ بیل کے مطابق یہ بات ضرور مایوسی کی ہے کہ ٹیم بھرپور تیاری کرتی ہے، اسٹریٹجی بناتی ہے، کھیل بھی اچھا رہے ہوتے ہیں کہ سب اچانک بکھر جاتا ہے۔ ٹیم نے آپس میں بھی بات کی ہے اور اب یہ کھلاڑیوں کے اپنے اوپر ہے کہ وہ کس طرح ٹکڑوں میں اچھا کھیلنے کے بجائے پورا میچ اچھا کھیلیں۔

ائین بیل کے مطابق کھلاڑیوں کو پتہ ہے کہ وہ بہت اچھا پرفارم کرسکتے ہیں اور اگر وہ پورا میچ اچھا کھیلے تو جیت کر ورلڈ کپ میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ائین بیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ باربیڈوس کی وکٹ ایسا لگتا ہے کہ تیز بولروں کو مدد دے گی اور اس میدان میں انگلینڈ کو بنگلہ دیش پر تھوڑی سبقت حاصل ہے۔

بنگلہ دیش کے کوچ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ جنوبی افریقہ کو ہرانے کے بعد بھی ان کی ٹیم کو معمولی سمجھا جاسکتا ہے تو واٹمور کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹیم نے باتیں بنانے والوں کو جواب دے دیا ہے۔

لیکن ڈیو واٹمور کا یہ بھی کہنا تھا کہ کھلاڑی اس پر اطمینان کر کے بیٹھ بھی نہیں سکتے کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش اب بھی نویں نمبر کی ٹیم ہے جو کبھی بڑی ٹیموں کو ہرادیتی ہے لیکن پھر بری طرح ہار بھی جاتی ہے۔ یہ بات کھلاڑیوں کو ختم کرنی ہوگی۔

بدھ کے اس میچ کے بعد بنگلہ دیش کو آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز سے کھیلنا ہے جبکہ انگلینڈ کے میچ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے ہونا باقی ہیں۔ چاروں میچ باربیڈوس میں ہی ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد