انگلینڈ سے جیت سکتےہیں:اشرفل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کرکٹ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ کےخلاف میچ میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر بیٹسمین محمد اشرفل نے کہا ہے کہ اگر پوری ٹیم فٹ رہی تو انگلستان کے خلاف میچ جیتنے کے اچھے خاصے امکانات ہیں۔ سنیچر کو جنوبی افریقہ کے خلاف حیران کن جیت کے بعد بی بی سی کی اردو سروس سے گفتگو میں محمد اشرفل نے کہا کہ جنوبی افریقہ پر بنگلہ دیش کی جیت سے عالمی کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی دوڑ اب کھلا مقابلہ بن گئی ہے۔ اور انگلستان کے خلاف بنگلہ دیش کی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ محمد اشرفل کے بقول اگر ٹیم اسی کارکردگی کو برقرار رکھتی ہے جو سنیچر کو جنوبی افریقہ کے خلاف پیش کی گئی ، تو نہ صرف انگلستان بلکہ آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی بنگلہ دیش کے اچھے امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی شکست کے بعد عالمی کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ اب کئی ٹیموں کے لیے کھل گئی ہے۔ سنیچر کے میچ کا ذکر کرتے ہوئے محمد اشرفل کا کہنا تھا کہ ٹیم کی حکمت عملی یہی تھی کہ وکٹیں بچائی جائیں اور اس کے نتیجے میں آخری اووروں میں رن بھی بن جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو امید تھی کہ اگر دو سو تیس یا چالیس تک سکور ہوجائے گا تو تین سپن بولروں کے ساتھ دوسری ٹیم کے لیے یہ ایک مشکل ہدف ہوگا لیکن ڈھائی سو کے سکور کے بعد تو ٹیم بہت پراعتماد ہوگئی تھی۔
اشرفل کا کہنا تھا کہ جب ابتداء میں ہی گریم سمتھ آوٹ ہوگئے تو ٹیم کو احساس ہوگیا کہ میچ پر بنگلہ دیش کی گرفت مضبوط ہے۔اور پھر جب شروع کے ہی بیس اوور میں کم اسکور پر مزید تین وکٹیں گر گئیں تو ٹیم کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ اب جنوبی افریقہ کو ہرا دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جب چوراسی رن اور چار کھلاڑی آؤٹ ہونے پر وہ خود بیٹنگ کرنے گئے تو صورتحال نیوزی لینڈ والے میچ جیسی ہی تھی اور حکمت عملی یہی تھی کہ احتیاط سے بغیر کسی نقصان کے ایک ایک اوور سنبھل سنبھل کر کھیلنا ہے۔ لیکن جب آفتاب احمد نے جارحانہ انداز میں کھیلنا شروع کیا تو بقول اشرفل، انہوں نے بھی اپنا کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا اور تیزی سے رن بنانا شروع کردیے۔ اس سوال پر کہ جو بھی ٹیم عالمی نمبر ایک بنتی ہے، بنگلہ دیش اس کو ہرادیتا ہے، اشرفل کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے بہت اچھا کھیل رہی ہے اور ٹیم کی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور مستقل اچھا کھیلنے پر ہے نہ کہ نمبر ایک ٹیم کو ہرانے پر۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش کی تاریخی فتح 07 April, 2007 | کھیل بنگلہ دیش کی جیت پر جشن08 April, 2007 | کھیل ’توقعات سے ٹیم دباؤ کا شکار تھی‘07 April, 2007 | کھیل ویسٹ انڈیز: کرکٹ کا جوڑ توڑ03 April, 2007 | کھیل نیوزی لینڈ فاتح، کپتان کی سنچری02 April, 2007 | کھیل ورلڈ کپ کی خبریں اور فیچر07 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||