BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 April, 2007, 20:14 GMT 01:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انگلینڈ سے جیت سکتےہیں:اشرفل

محمد اشرفل
جنوبی افریقہ کی شکست کے بعد عالمی کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ اب کئی ٹیموں کے لیے کھل گئی ہے۔
عالمی کرکٹ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ کےخلاف میچ میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر بیٹسمین محمد اشرفل نے کہا ہے کہ اگر پوری ٹیم فٹ رہی تو انگلستان کے خلاف میچ جیتنے کے اچھے خاصے امکانات ہیں۔

سنیچر کو جنوبی افریقہ کے خلاف حیران کن جیت کے بعد بی بی سی کی اردو سروس سے گفتگو میں محمد اشرفل نے کہا کہ جنوبی افریقہ پر بنگلہ دیش کی جیت سے عالمی کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کی دوڑ اب کھلا مقابلہ بن گئی ہے۔ اور انگلستان کے خلاف بنگلہ دیش کی ٹیم اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

محمد اشرفل کے بقول اگر ٹیم اسی کارکردگی کو برقرار رکھتی ہے جو سنیچر کو جنوبی افریقہ کے خلاف پیش کی گئی ، تو نہ صرف انگلستان بلکہ آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی بنگلہ دیش کے اچھے امکانات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی شکست کے بعد عالمی کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ اب کئی ٹیموں کے لیے کھل گئی ہے۔

سنیچر کے میچ کا ذکر کرتے ہوئے محمد اشرفل کا کہنا تھا کہ ٹیم کی حکمت عملی یہی تھی کہ وکٹیں بچائی جائیں اور اس کے نتیجے میں آخری اووروں میں رن بھی بن جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو امید تھی کہ اگر دو سو تیس یا چالیس تک سکور ہوجائے گا تو تین سپن بولروں کے ساتھ دوسری ٹیم کے لیے یہ ایک مشکل ہدف ہوگا لیکن ڈھائی سو کے سکور کے بعد تو ٹیم بہت پراعتماد ہوگئی تھی۔

توجہ اچھا کھیلنے پر ہے
 ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے بہت اچھا کھیل رہی ہے اور ٹیم کی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور مستقل اچھا کھیلنے پر ہے نہ کہ نمبر ایک ٹیم کو ہرانے پر۔

اشرفل کا کہنا تھا کہ جب ابتداء میں ہی گریم سمتھ آوٹ ہوگئے تو ٹیم کو احساس ہوگیا کہ میچ پر بنگلہ دیش کی گرفت مضبوط ہے۔اور پھر جب شروع کے ہی بیس اوور میں کم اسکور پر مزید تین وکٹیں گر گئیں تو ٹیم کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ اب جنوبی افریقہ کو ہرا دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جب چوراسی رن اور چار کھلاڑی آؤٹ ہونے پر وہ خود بیٹنگ کرنے گئے تو صورتحال نیوزی لینڈ والے میچ جیسی ہی تھی اور حکمت عملی یہی تھی کہ احتیاط سے بغیر کسی نقصان کے ایک ایک اوور سنبھل سنبھل کر کھیلنا ہے۔

لیکن جب آفتاب احمد نے جارحانہ انداز میں کھیلنا شروع کیا تو بقول اشرفل، انہوں نے بھی اپنا کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا اور تیزی سے رن بنانا شروع کردیے۔

اس سوال پر کہ جو بھی ٹیم عالمی نمبر ایک بنتی ہے، بنگلہ دیش اس کو ہرادیتا ہے، اشرفل کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم گزشتہ کچھ عرصے سے بہت اچھا کھیل رہی ہے اور ٹیم کی توجہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور مستقل اچھا کھیلنے پر ہے نہ کہ نمبر ایک ٹیم کو ہرانے پر۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد