نیوزی لینڈ فاتح، کپتان کی سنچری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹیگا میں سپر ایٹ مرحلے کے ایک میچ میں نیوزی لینڈ نے اپنے کپتان سٹیفن فلیمنگ کی شاندرا سینچری کی بدولت بنگلہ دیش کو نو وکٹوں سے شکست دے دی ہے ۔بنگلہ دیش کی ساری ٹیم 48 اعشاریہ 3 اوورز میں 174 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ نیوزی لینڈ نے 175 رنز کا ہدف تیسویں اوور میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز کپتان سٹیفن فلیمنگ اور فلٹن نے کیا۔دونوں نے بنگلہ دیشی بولروں کا سامنا اعتماد سے کیا تاہم وہ شروع میں جارحانہ بیٹنگ نے کر سکے۔ بنگلہ دیش کو واحد کامیابی اس وقت ملی جب فلٹن سید راسل کی ایک شارٹ پچ گیند پر اونچی شارٹ کھیلتے ہوئے تمیم اقبال کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ہمیش مارشل کھیلنے آئے۔ پہلے دس اوورز کے بعد فلیمنگ اور مارشل دونوں نے جارجانہ سٹروک کھیلتے ہوئے دوسری وکٹ کی شراکت میں 134 رنز بنا کر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔فلیمنگ کے 102 رنز میں دس چوکے اور تین چھکے جبکہ مارشل کے 50 رنز میں دو چوکے اور ایک چھکا شامل تھے۔ اس سے قبل اگرچہ نیوزی لینڈ کی طرف سے بنگلہ دیش کو کم سکور پر آؤٹ کرنے کے کوششوں کا آغاز جیکب اورم نے دونوں اوپنرز کو آؤٹ کر کے کیا لیکن اس کو تکمیل تک سٹرائس نے پہنچایا۔ سٹرائس نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انٹیگا میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی لیکن جلد ہی اسے قدرے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کے تیز بولر مائیکل میسن کو تیسرے اوور میں ٹانگ میں تکلیف کے باعث میدان سے باہر جانا پڑ گیا۔ نیوزی لینڈ نے ابتدا سے ہی بنگلہ دیش کے اوپنرز تمیم اقبال اور جاوید عمر کو کوئی سٹروک نہیں کھیلنے دیا لیکن پندرہ اوورز میں صرف 45 پینتالیس رنز بنانے کے بعد دونوں نے رنز بنانے کی رفتار تیز کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ تمیم اقبال ایسی ہی کوشش میں لیگ سائڈ پر ایک شارٹ کھیلنے کی کوشش میں سٹمپ ہو گئے۔ انہوں نے چار چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے اور ان کی وکٹ اورم نے لی۔ جلد ہی اورم نے بنگلہ دیش کے دوسرے اوپن جاوید عمر کو بھی آؤٹ کر دیا۔ وہ 22 رنز بنا کر وکٹ کیپر میکلن کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ 55 پر پہلے اور پھر باسٹھ پر دوسرے اوپنر کے آؤٹ ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی وکٹیں کم و بیش برابر وقفوں سے گرتی رہیں۔ تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی آفتاب احمد تھے جو ایک جارحانہ سٹروک کھیلتے ہوئے باؤنڈری لائن پر کیچ ہو گئے۔ انہوں نے تین چوکوں کی مدد سے ستائیس رنز بنائے۔
اس موقع پر بنگلہ دیش کو ایک اچھی اننگز کی ضرورت تھی لیکن جلد ہی کپتان حبیب البشر بھی 122 کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے صرف نو رنز بنائے۔ ان کے بعد سوائے محمد رفیق کے کوئی بھی دوسرا بنگلہ دیشی بلے باز سکور میں دس رنز سے زیادہ اضافہ نہ کر سکا۔ محمد رفیق نے مشرف مصطفیٰ اور راسل کے ساتھ شراکت میں تیس رنز بنائے جو میچ میں بنگلہ دیش کی طرف سے سب سے زیادہ سکور ثابت ہوا۔ ابھی تک عالمی کپ کے اپنے تمام میچ جیتنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم میں آج کے میچ کے لیے کوئی تبدیلی کی گئی تھی جبکہ بنگلہ دیش نے دو تبدیلیاں کیں۔ شہریار نفیس کی جگہ جاوید عمر اور تپاش بیسیا کے جگہ سید راسل کو کھلایا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم: نیوزی لینڈ کی ٹیم: امپائرز: علیم ڈار اور آر ای کورٹزن |
اسی بارے میں بنگلہ دیش، آسٹریلیا کا مقابلہ آج31 March, 2007 | کھیل ’ آسٹریلیا عالمی کرکٹ کا امریکہ ہے‘28 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا کا ’پروفیشنل‘ مظاہرہ14 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا بمقابلہ ہالینڈ: سکور کارڈ18 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا نے کوئی لحاظ نہ کیا18 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا بمقابلہ جنوبی افریقہ: سکور کارڈ24 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی 103 رنز سے جیت27 March, 2007 | کھیل بنگلہ دیش، آسٹریلیا کا مقابلہ آج24 March, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||