بنگلہ دیش کی تاریخی فتح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیانا میں جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے درمیان ورلڈکپ سپر ایٹ مرحلے کے میچ میں بنگلہ دیش نے جنوبی افریقہ کو 67 رنز سے شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ ورلڈ کپ میں ان کی دوسری بڑی کامیابی ہے اور اس سے قبل وہ گروپ مرحلے میں انڈیا کو شکست دے چکے ہیں۔ بنگلہ دیش نے حیران کن طور پر 251 رنز بنائے جو ان کا ورلڈ کپ میچز میں سب سے زیادہ سکور ہے۔ بنگلہ دیش کی اننگز کی خاص بات محمد اشرفل کی شاندار بیٹنگ تھی۔ انہوں نے بارہ چوکوں کی مدد سے 83 گیندوں پر 87 رنز بنائے۔ بنگلہ دیش کی طرف سے جاوید عمر اور تمیم اقبال نے بنگلہ دیش کی اننگز کا آغاز کیا اور دونوں میں 42 رنز کی پارٹنر شپ رہی جو کہ اب تک ورلڈ کپ کے میچوں میں بنگلہ دیش کے اوپنرز کی سب سے بڑی پارٹنر شپ ہے۔ جاوید عمر، کپتان حبیب البشر، تمیم اقبال اور ثاقب الحسن صرف 84 کے سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے جب محمد اشرفل کے ساتھ دینے کے لیے آفتاب احمد کریز پر آئے۔ آفتاب احمد اور محمد اشرفل نے مل کر 76 رنز کی بہت عمدہ پارٹنر شپ بنائی جس سے بنگلہ دیش کی ٹیم کو بہت سہارا ملا۔ آفتاب احمد نے دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 35 رنز بنائے اور پھر موتھیا نتینی کی گیند پر اینڈرے نِل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ مشرف مرتضٰی نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صرف سولہ گیندوں پر پچیس رنز بنائے۔ انہوں نے محمد اشرافل کے ساتھ مل کر تیزی سے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 5.1 اوورز میں 54 رنز کی پارٹنر شپ بنائی۔ انڈرے نِل نے انہیں بولڈ کیا۔ اس ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اوپنرز گریم سمتھ اور اے بی ڈی ویلیئرز نے اننگز کا آغاز کیا اور جنوبی افریقہ کو پہلا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب کپتان گریم سمتھ صرف بارہ رنز بنا کر سید راسل کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ مجموعی سکور میں صرف چار رنز کے اضافے کے ساتھ جنوبی افریقہ کے تین بلے باز پویلین واپس جا چکے تھے جن میں اے جی پرنس رن آؤٹ، اوپنر اے بی ڈی ویلیئرز کو عبدالرزاق نے بولڈ کیا اور اس سے پچھلے ہی اوور میں ژاک کیلیس 32 رنز بنا کر سید راسل کی گیند پر تمیم اقبال کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہوئے۔ ثاقب الحسن نے دو لگاتار گیندوں پر جسٹن کیمپ اور مارک پاؤچر کو آؤٹ کیا۔ باؤچر صرف بارہ رن بنا کر سید راسل کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے اور اگلی ہی گیند پر انہوں نے جسٹن کیمپ کا اپنی ہی گیند پر ایک خوبصورت کیچ لیا۔ اس وقت جنوبی افریقہ کا مجموی سکور صرف 87 تھا۔
جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ اگر جنوبی افریقہ یہ میچ جیت جاتا تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکان بڑھ جاتے۔ جنوبی افریقہ اس سے قبل سپر ایٹ مرحلے میں سری لنکا اور آئر لینڈ کو شکست دے چکا ہے۔ بنگلہ دیش کو اس میچ سے قبل سپر ایٹ مرحلے میں اب تک صرف شکست کا سامنا تھا۔ اس میچ سے قبل کپتان گریم سمتھ کا کہنا تھا کہ’اگر بنگلہ دیش کو موقع دیں گے تو یہ آپ پر حاوی ہو سکتے ہیں اس لیے ہمیں شروع سے ہی ایک اچھا کھیل پیش کرنا ہوگا اور ان پر دباؤ رکھنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ بنگلہ دیش کے پاس باز ایسے کھلاڑی ہیں جو میچ جیتنا جانتے ہیں۔ اور ان حالات میں یہ ضرور ایک چیلنج ثابت ہوں گے‘۔ بنگلہ دیش کے کپتان حبیب البشر کا کہنا تھا کہ’ آخری دو میچوں میں ہم نے اچھا کھیل نہیں پیش کیا لیکن ہم ابھی بھی اچھا کھیل سکتے ہیں‘۔ اس سے قبل بنگلہ دیش نے جنوبی افریقہ کے خلاف سات ایک روزہ میچ کھیلے ہیں اور تمام میں اسے ناکامی کا سامنا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اس میچ میں اینڈریو ہال کی جگہ اینڈرے نل کو ٹیم میں شامل کیا تھا جنہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیم: جنوبی افریقہ کی ٹیم: |
اسی بارے میں بنگلہ دیش’اِن‘ انڈیا ’آؤٹ‘25 March, 2007 | کھیل سنسنی خیز اختتام، جنوبی افریقہ فاتح28 March, 2007 | کھیل آسٹریلیا کی دس وکٹوں سے جیت31 March, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ نے آئر لینڈ کو ہرا دیا03 April, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||