کراچی ٹیسٹ اور سیریز میں فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ میچ پاکستان نے 199 رنز سے جیت لیا ہے۔ اس طرح اس نے سیریز بھی دو صفر سے جیت لی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے ڈریسنگ روم سے اس اطلاع کے بعد کہ زخمی ہو جانے والے بلے باز ساراوان دوبارہ بیٹنگ کے لیے نہیں آ سکیں گے پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے نویں کھلاڑی کو 244 کے مجموعی سکور پر آؤٹ کر کے میچ 199 رنز سے جیت لیا۔ محمد یوسف کو میچ اور سیریز میں ان کی شاندار کارکردگی پر مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ پاکستان کے سب سے زیادہ کامیاب بالر دانش کنیریا رہے جنہوں نے 69 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے جن میں چندرپال بھی شامل تھے۔ عمر گل، شاہد نذیر اور عبدالرزاق، تینوں نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔
پانچویں روز عمر گل کے ہاتھوں ابتدائی نقصان اٹھانے کے بعد ویسٹ انڈیز کے مڈل آرڈر بلے بازوں کو دانش کنیریا کی بالنگ کا سامنا کرتے ہوئے خاصی مشکل ہوئی۔ چائے کے وقفہ کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز کی دو وکٹیں گر گئی جن میں چندرپال کی قیمتی وکٹ بھی شامل تھی۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کی وکٹیں تسلسل کے ساتھ گرتی رہیں۔ اس سے قبل پانچویں اور آخری دن کا آغاز ویسٹ انڈیز نے 39 رنز دو کھلاڑی آؤٹ پر کیا اور دونوں بلے بازوں نے پاکستانی بالروں کا پراعتماد سامنا کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے سکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ کپتان برائن لارا نے ایک مرتبہ پھر اپنے بیٹنگ کے جوہر دکھاتے ہوئے نو چوکوں کی مدد سے انچاس رنز بنائے لیکن وہ اپنی نصف سینچری سے ایک رن کم پر عمر گل کی بالنگ پر شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ ان کے بعد رناکو مارٹن اور چندرپال نے سکور کو 126 تک پہنچا دیا۔ اس موقع پر دانش کنیریا نے رناکو مارٹن کو اپنی ہی گیند پر کیچ کر لیا۔ چوتھے دن کے کھیل کے آخری حصے میں جب ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز شروع کی تو عمر گل نے اپنے پہلے ہی اوور میں اوپنر کرس گیل کو بولڈ کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب دوسری جانب سے بالنگ کراتے ہوئے شاہد نذیر نے ویسٹ انڈیز کے دوسرے اوپنرڈیرن گنگا کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس سے قبل پاکستان نے اپنی دوسری اننگز 399 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر ختم کر کے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 444 رنز کا ہدف دیا تھا۔ کراچی ٹیسٹ کے چوتھے دن کی خاص بات محمد یوسف کا ایک سال کے اندر نو سینچریاں بنانے کا نیاعالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا۔ اس طرح انہوں نے اسی میچ کی پہلی اننگز میں آٹھ سینچریوں کو اپنا ہی بنایا ہوا ریکارڈ میچ کی دوسری اننگز میں مزید بہتر کر دیا۔ اس سے قبل چوتھے دن محمد یوسف نے ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈز کا ایک سال میں سب سے زیادہ رنز سکور کرنے کا ریکارڈ اس وقت توڑ دیا جب انہوں نے اپنی اننگز میں سینتالیس رنز کا ہدف عبور کیا۔ ویوین رچرڈز نے سب سے زیادہ سکور کرنے کا ریکارڈ 1976 میں 1710 رنز بنا کر قائم کیا تھا۔ چوتھے دن کا آغاز گزشتہ روزکے ناٹ آؤٹ کھلاڑیوں اوپنر محمد حفیظ اور محمد یوسف نے کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرے کرتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 149 رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستانی ٹیم: انضمام الحق، محمد یوسف، عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، شعیب ملک، عبدالرزاق، کامران اکمل، شاہد نذیر، عمر گُل اور دانش کنیریا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم برائن لارا، ڈیرن گنگا، کرس گیل، رناکو مارٹن، شِو نرائن چندرپال، ڈوائن براوو، دنیش رام دین، ڈیو محمد، کوری کالیمور، ڈیرن پاول اور جیروم ٹیلر۔ | اسی بارے میں کراچی: بڑے سکور کی کوشش29 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز کے چھ کھلاڑی آؤٹ28 November, 2006 | کھیل پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: سکور کارڈ19 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈین کرکٹ کو ’زوال‘20 November, 2006 | کھیل گیل اور گنگا کے سامنے بولرز بے بس20 November, 2006 | کھیل لارا کی سنچری، ویسٹ انڈیز آگے21 November, 2006 | کھیل ایشیز: رِکی پونٹنگ کی سینچری23 November, 2006 | کھیل ملتان: پاکستان نے ٹیسٹ بچالیا23 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||