کراچی:ویسٹ انڈیز مشکل میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کے کھیل کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں دو کھلاڑیوں کے نقصان پر 39 رنز بنائے ہیں۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 444 کا ہدف دیا ہے یعنی جمعہ کو ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے اور سیریز برابر کرنے کے لیِے مزید 405 رنز درکار ہیں جبکہ پاکستان کو سیریز دو صفر سے جیتنے کے لیے ویسٹ انڈیز کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ کرنا ہیں۔ چوتھے دن کے کھیل کے آخری حصے میں جب ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز شروع کی تو عمر گل نے اپنے پہلے ہی اوور میں اوپنر کرس گیل کو بولڈ کر دیا۔ ویسٹ انڈیز کو دوسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب دوسری جانب سے بالنگ کراتے ہوئے شاہد نذیر نے ویسٹ انڈیز کے دوسرے اوپنرڈیرن گنگا کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ اس سے قبل پاکستان نے اپنی دوسری اننگز 399 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر ختم کر کے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کے لیے 444 رنز کا حدف دیا ہے۔پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی عبدالرزاق تھے جو محض دس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان سے پہلے شعیب ملک بھی دس ہی کے سکور پر کالیمور کر گیند پر بولڈ ہو گئے۔ کراچی ٹیسٹ کے چوتھے دن کی خاص بات محمد یوسف کا ایک سال کے اندر نو سینچریاں بنانے کا نیاعالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا۔ اس طرح انہوں نے اسی میچ کی پہلی اننگز میں آٹھ سینچریوں کو اپنا ہی بنایا ہوا ریکارڈ میچ کی دوسری اننگز میں مزید بہتر کر دیا۔ اس سے قبل چوتھے دن محمد یوسف نے ویسٹ انڈیز کے ویوین رچرڈز کا ایک سال میں سب سے زیادہ رنز سکور کرنے کا ریکارڈ اس وقت توڑ دیا جب انہوں نے اپنی اننگز میں سینتالیس رنز کا حدف عبور کیا۔ ویوین رچرڈز نے سب سے زیادہ سکور کرنے کا ریکارڈ 1976 میں 1710 رنز بنا کر قائم کیا تھا۔ چوتھے دن کا آغاز گزشتہ روزکے ناٹ آؤٹ کھلاڑیوں اوپنر محمد حفیظ اور محمد یوسف نے کیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرے کرتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 149 رنز کا اضافہ کیا۔
چوتھے روز پاکستان کی پہلی وکٹ اس وقت گری جب محمد حفیظ 104 رنز بنا کر ٹیلر کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوگئے۔ انہوں نے یہ سکور دس چوکوں کی مدد سے بنایا۔ بدھ کے روز پاکستان نے دوسری اننگز میں دو وکٹ کے نقصان پر 130 رنز بنائے تھے۔ دوسری اننگز میں پاکستان کی پہلی وکٹ اکتالیس کے مجموعی سکور پر اس وقت گری جب عمران فرحت بیس رن بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد یونس خان کھیلنے آئے اور انہوں نے محمد حفیظ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں سکور 122 رنز تک پہنچایا۔ یونس خان 38 رنز بنانے کے بعد گیل کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ پاکستانی ٹیم: انضمام الحق، محمد یوسف، عمران فرحت، محمد حفیظ، یونس خان، شعیب ملک، عبدالرزاق، کامران اکمل، شاہد نذیر، عمر گُل اور دانش کنیریا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم برائن لارا، ڈیرن گنگا، کرس گیل، رناکو مارٹن، شِو نرائن چندرپال، ڈوائن براوو، دنیش رام دین، ڈیو محمد، کوری کالیمور، ڈیرن پاول اور جیروم ٹیلر۔ | اسی بارے میں کراچی: بڑے سکور کی کوشش29 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز کے چھ کھلاڑی آؤٹ28 November, 2006 | کھیل پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: سکور کارڈ19 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈین کرکٹ کو ’زوال‘20 November, 2006 | کھیل گیل اور گنگا کے سامنے بولرز بے بس20 November, 2006 | کھیل لارا کی سنچری، ویسٹ انڈیز آگے21 November, 2006 | کھیل ایشیز: رِکی پونٹنگ کی سینچری23 November, 2006 | کھیل ملتان: پاکستان نے ٹیسٹ بچالیا23 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||