’فیصلہ اچھا اور ایک سبق ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی نے آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر کو مستقبل میں امپائرنگ نہ دینے کے آئی سی سی کے فیصلے کو اچھا قرار دیا ہے جبکہ میانداد نے کہا ہے کہ یہ امپائرز کے لئے ایک سبق ہے۔ احسان مانی کہتے ہیں کہ جن ممالک کو ہیئر سے مسائل درپیش تھے وہ اب حل ہوجائیں گے۔ آئی سی سی نےچھہتر ٹیسٹ اور ایک سو چوبیس ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں امپائرنگ کرنے والے ڈیرل ہیئر کے بارے میں فیصلہ کیا ہے وہ آئندہ بین الاقوامی کرکٹ میں امپائرنگ نہیں کریں گے البتہ ان کے تجربے کو کسی دوسرے انداز سے استعمال کیا جائے گا۔ احسان مانی نے ممبئی سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرل ہیئر کا رویہ ان کے آڑے آیا۔’ان کے پاکستان اور دوسرے کچھ ممالک کے ساتھ مسائل رہے۔‘ احسان مانی نے کہا کہ ڈیرل ہیئر اور ایشیائی ممالک کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کی وجہ مختلف تہذیبوں کا ٹکراؤ کہی جاسکتی ہے۔
آئی سی سی کے سابق صدر کے مطابق امپائر کا کام صرف امپائرنگ نہیں ہے بلکہ یہ مین منیجمنٹ ہے جس میں لوگوں سے رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ احسان مانی نے اس تاثر کو ماننے سے انکار کردیا کہ ایشیائی ممالک کے دباؤ کے سبب ہیئر کو امپائرنگ پینل سے ہٹایا جانا آئی سی سی کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی اہم اور بنیادی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کی نزاکت کو سمجھے اور معاملے کو نمٹائے۔ احسان مانی کے مطابق خود انہوں نے گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ہیئر کے خلاف شکایت باضابطہ طور پر آئی سی سی کو پیش کرے اسوقت بھی آئی سی سی اس پر غور کرنے کے لئے تیار تھی۔ احسان مانی کے خیال میں آئی سی سی ایشیائی اور سفید فاموں میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ ڈیرل ہیئر کی برطرفی کے بارے میں سابق کپتان جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ یہ امپائرز کے لئے بھی سبق ہے کہ کوئی بھی ضابطۂ اخلاق سے بالاتر نہیں ہے۔
جاوید میانداد کے مطابق آئی سی سی اس فیصلے سے مضبوط ہوگی کیونکہ اس سے قبل اس طرح کے کڑے فیصلے صرف فیفا میں نظرآتے رہے ہیں۔ میانداد کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں امپائرز کا کریئر کرکٹرز سے زیادہ طویل اور پرکشش ہے لیکن یہ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے اگر وہ اس ذمہ داری کو صحیح نبھائے تو بہت آگے جاسکتا ہے۔ ہیئر کو اپنے غیرلچک دار رویئے کی قیمت چکانی پڑی ہے۔ پاکستان کے دوسرے سابق کپتان راشد لطیف کے خیال میں ہیئر کی حییثت متنازعہ ہوگئی تھی ان حالات میں انہیں خود ہی امپائرنگ چھوڑدینی چاہئے تھی۔ اس سلسلے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی کرکٹ کے لئے اچھا ہے کیونکہ ڈیرل ہیئر کی ہٹ دھرمی سے کرکٹ کو نقصان ہورہا تھا۔ |
اسی بارے میں ہیئر پر اعتماد نہیں رہا: آئی سی سی04 November, 2006 | کھیل کرکٹر عطاءالرحمن پر پابندی ختم 04 November, 2006 | کھیل ڈیرل ہیئر کی ’برطرفی کا فیصلہ‘03 November, 2006 | کھیل رکی پونٹگ سال کے بہترین کھلاڑی03 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||