ساؤتھ ایشین گیمز کا اختتام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دسویں ساؤتھ ایشین گیمز پیر کو کولمبو کے سوگاتھا داسا سٹیڈیم میں سخت سکیورٹی میں ہونے والی رنگارنگ تقریب میں اختتام کو پہنچے۔ افتتاحی تقریب کی طرح اختتامی تقریب بھی خوبصورت رنگ لیئے ہوئے تھی جس میں سرسنگیت بھی تھی اور سری لنکا کی قومی اورعلاقائی زندگی کی بھرپور عکاسی بھی اس میں جھلک رہے تھے۔ شریک ممالک کے دستوں کے مارچ پاسٹ اور ان کھیلوں کے پرچم کی اگلے میزبان بنگلہ دیش کو منتقلی کے بعد آتش بازی کے خوبصورت مظاہرے نے تقریب کو چارچاند لگادیئے۔ دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں بھارتی کھلاڑیوں نے اپنی برتری ثابت کردی۔ بھارت نے ان کھیلوں میں ریکارڈ118 طلائی تمغے حاصل کئے۔ اس کے چاندی اور کانسی کے تمغوں کی تعداد69 اور 47 رہی۔ اس سے قبل بھارت نے اپنے یہاں1995 میں ہونے والے سیف گیمز میں 106 گولڈ میڈلز جیتے تھے۔
پاکستان نے بھی ساؤتھ ایشین گیمز مقابلوں میں سب سے زیادہ گولڈ میڈلز جیتے جن کی تعداد 43ہے اس سے پہلے1989 کے اسلام آباد سیف گیمز میں اس نے42 طلائی تمغے جیتے تھے۔ سری لنکا 37گولڈ میڈلز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ دسویں ساؤتھ ایشین گیمز میں سوائے مالدیب کے تمام ملکوں نے تمغے جیتے مالدیب کو دوسال قبل اسلام آباد میں بھی کوئی تمغہ نہیں ملا تھا اور اسمرتبہ بھی اس کےکھلاڑی خالی ہاتھ وطن واپس گئے ہیں۔ افغانستان کے کھلاڑیوں نے دوسال قبل اسلام آباد میں ایک گولڈ میڈل کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے اس مرتبہ چھ طلائی تمغے حاصل کیئے۔ دسویں ساؤتھ ایشین گیمز کے آخری دن پاکستان نے کراٹے میں دو طلائی تمغے حاصل کرلیئے۔ اس طرح کراٹے میں پاکستان کے حاصل کردہ گولڈ میڈلز کی تعداد پانچ ہوگئی۔ اگر پاکستان کی ان کھلیوں میں مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر کل گولڈ میڈلز کی تعداد کے لحاظ سے بہت اچھا کہا جائے گا لیکن روئنگ اور بیڈمنٹن کی مایوس کن کارکردگی نے گولڈ میڈلز کی نصف سنچری مکمل نہیں ہونے دی۔ پچھلے گیمز میں پاکستان نے ایتھلیٹکس میں پانچ گولڈ میڈلز جیتے تھے اس مرتبہ یہ تعداد صرف تین رہی۔ اسلام آباد میں پاکستان نے نو گولڈ میڈلز باکسنگ میں جیتے تھے اس مرتبہ یہ تمغے سات رہے۔ بیڈمنٹن میں ایک چاندی کا تمغہ اسلام آباد میں پاکستان کو ملا تھا اسمرتبہ یہ بھی نہ ملا۔ روئنگ میں پاکستان نے دوسال قبل چھ گولڈ میڈلز حاصل کئے تھے اس مرتبہ یہ چھ طلائی تمغے مایوس کن کارکردگی کے سبب چاندی کے چھ تمغوں میں تبدیل ہوگئے۔
ویٹ لفٹنگ میں پاکستان نے چھ گولڈ میڈلز جیتے جو گزشتہ مقابلوں سے ایک زیادہ ہے اسی طرح شوٹرز نے بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور دوسال قبل کے دو گولڈ میڈلز کے برعکس اس مرتبہ پانچ طلائی تمغے حاصل کئے۔ اسلام آباد میں پاکستان نے سوئمنگ میں تیرہ چاندی کے تمغے جیتے تھے اس مرتبہ صرف پانچ چاندی کے تمغے اس کے حصے میں آئے۔ پاکستان نے اس مرتبہ جوڈو ووشو کراٹے اور تائی کوانڈو میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔ فٹبال اور اسکواش میں پاکستان نے اپنے اعزاز کا دفاع کامیابی سے کیا اور ہاکی مقابلوں کی ان گیمز میں واپسی کو گولڈ میڈل کے ساتھ یادگار بنایا۔ |
اسی بارے میں ساؤتھ ایشین گیمز، انڈیا سب سے آگے19 August, 2006 | کھیل انڈیا اول، سری لنکا دوم، پاکستان سوم21 August, 2006 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز 18 اگست سے 14 August, 2006 | کھیل ساؤتھ ایشین گیمز، تیاریاں شروع04 May, 2006 | کھیل سکیورٹی انتظامات: شدید دشواریاں 19 August, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||