BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 May, 2006, 10:36 GMT 15:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاکی:ٹیم مینجر اور نائب کوچ تبدیل

آصف باجوہ
’یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاہم میں اس کے لیئے تیار ہوں ‘
پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔

ہاکی ٹیم کے مینجر سعید خان کو سبکدوش کر دیا گیا ہے اور کوچ آصف باجوہ کو مینجر کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔

نائب کوچ رانا مجاہد کو بھی ان کے عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے ان کی جگہ رانا ظہیر احمد کو نائب کوچ بنایا گیا ہے جبکہ ماضی کے پاکستانی گول کیپر شاہد علی خان کوگول کیپر کوچ مقرر کیا گیا ہے۔

مینجمنٹ میں یہ تبدیلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان کی ناقص کاکردگی کے سبب کی گئی۔گو کہ پاکستان نے ورلڈکپ کے لیئے کوالیفائی تو کر لیا لیکن کمزور ٹیموں کے خلاف بھی پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے طویل مشورے کے بعد مینجمنٹ میں یہ تبدیلی کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان موجود ہم آہنگی کے سبب یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ ٹیم مینجمنٹ جون میں ہونے والے ازلان شاہ ٹورنامنٹ، ہیمبرگ ٹورنامنٹ اور ستمبر میں ہونے والے ورلڈ کپ تک کے لیئے ہوگی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پوری ایمانداری سے ٹیم کے مفاد میں کیا گیا ہے۔

مینیجر مقرر کیئے جانے پر آصف باجوہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے لیئے ضروری تھا کہ ان کی کوچنگ تکنیک میں تسلسل رہے اور اگرچہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاہم میں اس کے لیئے تیار ہوں اور اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتا ہوں۔

نائب کوچ رانا مجاہد کو بھی ان کے عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری تھا کہ تمام ذمہ داری ایک ہی شخص کو دی جائیں تاکہ وہ مکمل طور پر جوابدہ بھی ہو اور اپنے پلان کو پوری طرح لاگو بھی کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب ٹیم کے ساتھ مینجر بھی ہو تو وہ اپنا لائن آف ایکشن لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں اورگیم پلان میں مداخلت کرتے ہیں ایسی صورتحال میں کھلاڑی بھی کنفیوز ہو جاتے ہیں جو اس لیول کی ہاکی کے لیئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا شروع سے مؤقف رہا ہے کہ صرف ایک شخص کی ذمہ داری ہو تاکہ وہ بھی جواب دہ ہو اور کھلاڑی بھی کنفیوژن کا شکار نہ ہوں۔

یاد رہے کہ چین میں گزشتہ ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان ٹیم کی مینجمنٹ میں اختلافات کی کافی خبریں گردش کرتی رہی تھیں۔

آصف باجوہ نے کہا کہ میرا ٹارگٹ عالمی کپ اور ایشین گیمز ہیں کیونکہ یہ دونوں ٹورنامنٹس چار سال بعد ہوتے ہیں جبکہ چمپیئنز ٹرافی تو ہر سال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چمپیئنز ٹرافی میں پاکستان ٹیم کے کپتان محمد ثقلین کے پابندی کے سبب تین میچ نہ کھیل سکنے سے ہمیں نقصان ہو گا کیونکہ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔

آصف باجوہ کے مطابق پاکستان کی ہاکی ٹیم میں بہت ’پوٹینشل‘ ہے اور وہ کسی بھی وقت کم بیک کر کے بڑا ٹورنامنٹ جیتنے کی اہلیت رکھتی ہے اور ان پر ہاکی فیڈریشن نے جو اعتماد کیا ہے وہ اس پر پورا اتریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد