BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 April, 2006, 06:00 GMT 11:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کو اس کا حصہ جلد ملے گا‘

احسان مانی
کھلاڑیوں کے آرام کے لیئے متعلقہ بورڈز کو مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیئے
انٹرنیشل کرکٹ کونسل کے صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ انیس سو چھیانوے کے ورلڈ کپ کی آمدنی سے پاکستان کا حصہ ملنے میں تاخیر افسوسناک ہے تاہم یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔

احسا ن مانی 1996 کے عالمی کرکٹ کپ کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشیر تھے۔ احسان مانی نے اسی مسئلے پر منگل کو لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے ملاقات بھی کی۔

ملاقات کے بعد احسان مانی نے کہا دس سال گزر جانے کے بعد اب یہ مالی معاملات حل ہو جانے چاہئیں ’گو کہ بھارتی کرکٹ بورڈ میں تبدیلی آ چکی ہے تاہم نئے عہدیداروں سے بات چیت ہو رہی ہے اور کوشش ہے کہ پاکستان کو اس کا حصہ جلد مل جائے‘۔

آئی سی سی کے صدر نے کہا کہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیئے آمدنی خود آئی سی سی میزبان ممالک میں تقسیم کرے گی۔

احسان مانی نے کہا کہ انہیں کھلاڑیوں کے آرام کا احساس ہے اور آئی سی سی نے رکن ممالک کو ہدایت دی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کو آرام دینے کے لیئے مناسب منصوبہ بندی کریں تاہم انہوں نے کھلاڑیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ دنیا بھر کے کھلاڑی زیادہ کرکٹ کا شور تو بہت کر رہے ہیں لیکن خود آرام کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آرام کے دنوں میں کھلاڑی کاؤنٹی کیوں کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کافی تعداد میں آسٹریلوی کھلاڑی انگلش کاؤنٹی کھیلتے ہیں۔’گلن میگرا بھی وہاں کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاہد آفریدی نے مصروف شیڈیول کی بات کی لیکن اب وہ آرام کی بجائے آئر لینڈ کھیلنے جا رہے ہیں‘۔

احسان مانی نے مزید کہا کہ ’پاکستانی ٹیم سری لنکا سے سیریز ختم ہوتے ہی اور بھارتی ٹیم انگلینڈ سے کھیل کر فورا ہی ابوظہبی میں مد مقابل آ گئیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیئے متعلقہ بورڈز کو مناسب منصوبہ بندی کرنی چاہیئے تاکہ کھلاڑیوں کو آرام مل سکے۔‘

ابھی یہ بتانا ممکن نہیں کہ 2011 کی میزبانی کون حاصل کرے گا یہ تاہم تاخیر سے بولی جمع کرانے سے ایشین ممالک کا کیس کمزور ہوگیا ہے۔
احسان مانی

احسان مانی نے کہا: ’جہاں تک آئی سی سی کا سوال ہے، ہم نے کھلاڑیوں کی شکایت کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ سالہ فیوچر ٹؤر پروگرام کی مدت بڑھا کر چھ سال کر دی ہے۔‘

آئی سی سی کے صدر نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ چیمپیئنز ٹرافی کی ساری رقم آئی سی سی لے جاتی ہے۔ احسان مانی نے کہا کہ 2000 سے 2005 تک پانچ برسوں میں پانچ سو پچاس ملین ڈالر کمائے ہیں جس کا ایک ایک پیسہ ممبر ممالک کو دے دیا جاتا ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ اگلے میگا ایونٹس کے لیئے آئی سی سی نے ایک شرط رکھی ہے کہ جو ملک ورلڈ کپ کے لیئے ٹیکس کی چھوٹ نہیں دے گا اسے میزبانی نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں تو یہ مسئلہ نہیں البتہ بھارتی حکومت نے بھی یقین دہانی کروائی ہے۔

مزید براں آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ عالمی کپ2011 کی میزبانی حاصل کرنے کے لیئے 13 میں سے سات ووٹ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی یہ بتانا ممکن نہیں کہ 2011 کی میزبانی کون حاصل کرے گا یہ تاہم تاخیر سے بولی جمع کرانے سے ایشین ممالک کا کیس کمزور ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان اے ٹیم کا اعلان
05 September, 2005 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد