سچن زخمی، ون ڈے سیریز سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین بیٹسمین سچن تندولکر ایک بار پھر زخمی ہیں اور وہ تقریبا آٹھ ہفتوں تک کھیل کے میدان سے باہر رہیں گے۔ سیلیکشن کمیٹی نےانگلینڈ کے ساتھ آئندہ ہونے والے سات ون ڈے میچوں کے لیے انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کرن مورے نے ون ڈے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئےاس بات کی تصدیق کردی ہے کہ تندولکر کے کندھے میں تکلیف ہے جس کی وجہ سے ان کے کندھے کا آپریشن ہوگا۔ تندولکر اس آپریشن کے لیےانگلینڈ جائیں گے اور کندھے کے علاج میں آٹھ ہفتے کا وقت لگے گا۔ بھارتی ٹیم بارہ مئی کو ویسٹ انڈیز کے لیۓ روانہ ہوگی اور اگر سچن اس سے پہلے فٹ نہیں ہوئےتو ویسٹ انڈیز کے دورے میں بھی انہیں شامل نہیں کیا جائےگا لیکن بورڈ کے ارکان کا کہنا ہے کہ وقتا فوقتاسچن کی بیماری کے بارے میں ہوتی رہےگی۔ گزشتہ چند سیریز میں تندولکرکی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے جس کے سبب ان پر رن بنانے کے لیے سخت دباؤ تھا۔ ممبئی میں انگلینڈ کے ساتھ آخری ٹیسٹ میچ میں اپنےہوم گراؤنڈ پر رن نہ بنانے کی وجہ سے کرکٹ شائقین نے ان کے خلاف جس طرح کی نعرے بازی کی تھی، سچن کے ساتھ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
ایک ایسے وقت میں جب سچن کی کارکردگی سے لوگوں میں قدرے مایوسی ہے اور اچھی پرفارمنس کے لیے مستقل کوششوں کے باوجود سچن کو کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے ان کے کندھے میں چوٹ ان کے لیے ایک بڑا جھٹکاہے۔ انگلینڈ کے ساتھ ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے بعد کئی طرح کے سوال اٹھے ہیں۔ میڈیا میں بحث جاری ہے کہ کیااب سچن کے دور کا خاتمہ ہوگیا ہے یا پھر ابھی بھی ان میں ماسٹر بلاسٹر کی صفات پائی جاتی ہیں۔ بعض کے مطابق اب ان میں وہ دم خم نہیں رہا جبکہ بعض کے مطابق یہ وقتی اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور سچن میں اب بھی وہی جذبہ موجود ہے جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔ انگلینڈ کے ساتھ آئندہ سات ون ڈے میچوں میں سچن کی جگہ سلیکشن کمیٹی نے آندھرپردیش کے بلے باز وینوگوپال راؤ کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ ٹیسٹ میچوں اچھی کارکردگی کے سبب تیز رفتار بالر مناف پٹیل کو ٹیم میں جگہ دی گئی ہے جبکہ ظہیر خان کو ٹیم سے باہر کردیا گیا ہے۔ ون ڈے میچوں کا آغاز 28 مارچ سے ہوگا اور پہلا میچ دلی میں کھیلا جائےگا۔ پہلے تین میچوں کے لیے منتخب ٹیم اس طرح ہے: راہول ڈراوڈ ( کپتان)، وریندر سہواگ، گوتم گمبھیر، یوراج سنگھ، محمد کیف، سریش رینا، مہندر سنگھ دھونی، عرفان پٹھان، رودرپرتاپ سنگھ، ایس سریناتھ، مناف پٹیل، اجیت اگارکر، ہربھجن سنگھ، وینوگوپال راؤ اور رامیش پوار۔ | اسی بارے میں سچن ٹندولکر ان فٹ30 August, 2004 | کھیل سچن تندولکر بمقابلہ شعیب اختر21 March, 2004 | کھیل کولکتہ: سچن کے دس ہزار رن 16 March, 2005 | کھیل سچن تندولکر کے دس ہزار رنز16 March, 2005 | کھیل بلے کا وزن؟ سچن تندولکر ناراض27 June, 2005 | کھیل سچن تندولکر کا عالمی ریکارڈ10 December, 2005 | کھیل ماسٹر بلاسٹر، سچن تندولکر07 January, 2006 | کھیل ’سچن کے بہترین دن توابھی آئےنہیں‘06 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||