وقار بالنگ کوچ، ظہیر مینیجر مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماضی کے فاسٹ بالر وقار یونس کو ایک سال کے لیئے بالنگ کوچ مقرر کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان نے وقار یونس کی تقرری کا اعلان کرنے کے علاوہ سری لنکا کے دورے کے لیئے ماضی کے مایہ ناز بلے باز ظہیر عباس کو مینیجر مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ شہر یار خان نے کہا کہ وقار یونس سے تمام معاملات طے کر لیئے گئے ہیں اور وہ بدھ سے شروع ہونے والے کیمپ میں پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی تربیت کے ساتھ سری لنکا کے دورے پر ٹیم کے ہمراہ جائیں گے۔ شہر یار خان نے وقار یونس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مالی معاملات کے بارے میں زیادہ تفصیل بتانے سے گریز کیا البتہ ان کا کہنا تھا کہ وقار یونس کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سنٹرل کانٹریکٹ کے تحت اے گریڈ کے کھلاڑیوں کے برابر تنخواہ دی جائے گی۔ وقار یونس کرکٹ میچوں کی کمنٹری بھی کرتے ہیں۔ شہر یار خان نے کہا کہ اس دوران وہ کمنٹری نہیں کریں گے۔ پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ وقار یونس قومی ٹیم کے علاوہ اے ٹیم، انڈر 21 ، انڈر 19 اور اکیڈمی ٹیم کے بالروں کو بھی تربیت دیں گے۔ شہر یار خان نے کہا کہ وقار یونس کی بطور بالنگ کوچ اور ظہیر عباس کی بطور مینیجر تقرری بہت خوش آئند بات ہے اور اس سے ٹیم کو بہت فائدہ ہو گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم کے ہیڈ کوچ باب وولمر ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ظہیر عباس براہ راست کوچنگ میں شامل تو نہیں ہوں گے لیکن ظاہر ہے کہ وہ اتنے بڑے بیٹسمین ہیں تو ان کا فائدہ ٹیم کو ہو گا۔ پاکستان ٹیم کے غیر ملکی کوچ باب وولمر نے بھی وقار یونس اور ظہیر عباس کی تقرری کو ٹیم کے لیے بہت اچھا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو ایک اچھے بالنگ کوچ کی ضرورت ہے اور وسیم اکرم اور وقار یونس کا اس میدان میں تجربہ اور مہارت بے مثال ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ ظہیر عباس سپن بالنگ کے خلاف بہترین کھیلتے تھے اور ہم ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ بہت سے خانسامے مل کر کھانا خراب کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں باب نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’یہ باورچی خانے کے ہیڈ پر منحصر ہوتا ہے‘۔ وقار یونس نے اپنی تقرری پر کہا کہ وہ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے جو ان سے لگائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کے بالنگ اٹیک کو مضبوط کریں تاکہ پاکستان کی بالنگ ماضی کے سنہرے دور کی طرح پھر مقام حاصل کر سکے۔ ظہیر عباس نے کہا کہ سری لنکا کے دورے کے دوران ان سے ٹیم کے لیئے جو بھی مشورہ لیا جائے گا وہ بھر پور طریقے سے ٹیم کی بہتری میں کردار ادا کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’بالنگ کوچ دورے سے پہلے‘01 March, 2006 | کھیل فٹبال، امارات نے پاکستان کو ہرادیا01 March, 2006 | کھیل بڑے ناموں کے بغیرٹوئنٹی 20 کپ24 February, 2006 | کھیل پاکستانی ٹیم کا دورۂ سری لنکا22 February, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||