ویزے کی مدت تین دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جانے والا تیسرا ون ڈے دیکھنے کے لیے ہزاروں بھارتی شائقین لاہور پہنچے ہیں لیکن انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ لاہور شہر کی سیر کیئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ بھارت سے آنے والے شائقین کی اکثریت کو تین دن کا ویزا جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کو لاہور پہنچے ہیں پیر کو میچ ہے جبکہ منگل کو ویزے کی مدت ختم ہوجانے پر انہیں واپس چلے جانا ہے۔ ایسے میں وہ لاہور شہر دیکھنے سے محروم رہ جائیں گے جس کی خواہش ہمیشہ سے ان کے دل میں رہی ہے۔ کچھ شائقین کو دس سے بارہ دن کا ویزا ملا ہے جس پر وہ خوش ہیں کہ لاہور کی سیر بھی کرینگے اور ملتان کا میچ بھی دیکھیں گے۔ اتوار کو جب بھارتی شائقین سرحد پار کرکے لاہور میں داخل ہوئے تو انہیں کھانے پینے سے زیادہ فکر میچ کے ٹکٹوں کی تھی جن کی بکنگ انہوں نے انٹرنیٹ پر کرا رکھی تھی چنانچہ انہوں نے قذافی اسٹیڈیم کے قریب واقع اس ہوٹل کا رخ کیا جہاں قائم کاؤنٹر سے انہیں ٹکٹ حاصل کرنے تھے لیکن رات گئے تک وہاں شائقین اور ٹکٹوں کی فراہمی کے ذمہ دار عملے کے درمیان شور اور ہنگامے میں تلخ کلامی ہوتی رہی۔ شائقین کا کہنا تھا کہ واہگہ بارڈر پر بھی انہیں طویل انتظار کرنا پڑا اور اب یہاں بھی انہیں سخت ذہنی اذیت کا سامنا ہے کیونکہ انٹرنیٹ پر پہلے سے بکنگ ہونے کے باوجود مقامی عملہ انہیں ٹکٹ نہیں دے رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس کمپنی سے انٹرنیٹ پر ٹکٹوں کی بکنگ سے معاہدہ کررکھا ہے اس کے سربراہ سہیل احمد بعض بھارتی شائقین کے جارحانہ رویئے سے سخت ناراض تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹکٹ پن کوڈ نمبر کے بغیر وہ دینے کے مجاز نہیں ہیں لیکن بیشتر شائقین کے پاس پن کوڈ نمبر نہیں وہ صرف پاسپورٹ دکھاکر ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سہیل احمد کے مطابق ویزے کے اجرا میں تاخیر ہوئی اور اب بڑی تعداد میں لوگ ایک ہی وقت میں یہاں پہنچے ہیں جس کے نتیجے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سہیل احمد کا کہنا ہے کہ تقریباً ساڑھے تین ہزار ٹکٹ انٹرنیٹ پر بھارتی شائقین کے لیئے رکھے گئے تھے۔ پاکستان اور بھارت کی موجودہ سیریز میں ٹکٹوں کا حصول پاکستانی شائقین کے لیئے بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پشاور اور راولپنڈی میں کئی تماشائی ٹکٹیں ہونے کے باوجود پولیس کے ناروا سلوک کا شکار ہوئے جبکہ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ پولیس والے اپنے جاننے والوں کو بغیر ٹکٹ میدان میں داخل کرا رہے تھے۔ | اسی بارے میں ’کرکٹ نے رستہ بنا دیا‘11 February, 2006 | کھیل پشاور: ’میچز کروائے جائیں‘06 February, 2006 | کھیل مہنگے ٹکٹ بھی فوراً بک گئے 02 February, 2006 | کھیل لمبی قطاریں مگر ویزہ نہیں03 March, 2004 | کھیل کرکٹ شائقین کا انوکھا احتجاج04 April, 2004 | کھیل پنڈی کے شائقین کی محرومی08 October, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||