لمبی قطاریں مگر ویزہ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ برس بعد پاکستانی وکٹ پر بھارتی ٹیم کی واپسی کو دیکھنے کے منتظر بھارتی شائقین جب دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کا رخ کر رہے ہیں تو انہیں عملے کی طرف سے سرد مہری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بدھ کو ویزوں کے اجرا کا اعلان سن کر جب بھارتی شائقین نے پاکستانی سفارت خانے کے سامنے صبح ہی سے اکھٹا ہونا شروع کر دیا تو ان کی کوشش صرف اتنا ہی رنگ لا سکی کہ انہیں ویزہ فارم جاری کر دئیے گئے مگر ویزے نہیں۔ پاکستانی سفارت خانے کے سامنے لمبی قطاروں میں لگے بھارتی کرکٹ شائقین میں قدرے مایوسی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے ٹکٹ تو خرید لیئے ہیں مگر ویزے حاصل کرنا کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہے۔ اس قطار میں لگے دل جلوں میں سے ایک سریندر نامی کرکٹ دیوانے کا کہنا تھا کہ ”میں نے آن لائن جا کر ایک سو چالیس پاؤنڈ کے پانچ ٹکٹ خریدے ہیں اور اپنے پاسپورٹ کی تفصیل بھی بھیج دی تھی مگر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔‘ سریندر کے ساتھ جہاں کئی اور رشتہ دار پاکستان جانے کے انتیظار میں وہیں ان کےہمراہ نوے برس کے ایک بزرگ رشتہ دار بھی لاہور میچ دیکھنے جا رہے ہیں۔ جبکہ اسی قطار میں لگے کلیم خان کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹ دیکھنے نہیں جا رہے وہ تو صرف ویزے کے لئیے اپنی باری کا انتیظار کر رہے ہیں۔ قطار میں لگے بعض لوگوں کو تو یہ بھی خدشہ ہے کے جب تک ان کی باری آۓ ان کا ٹکٹ ضائع ہی نہ ہو چکا ہو۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس صورتحال پر تبصرہ کرنے کے لئیے پاکستانی سفارت خانے کا کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||