BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 February, 2004, 06:51 GMT 11:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ بورڈ کی ریکارڈ آمدنی

پاکستان بھارت کی کرکٹ ٹیمیں
پاکستان کرکٹ بورڈ گزشتہ کچھ برسوں سے مالی طور پر مشکلات سے دوچار رہنے کے بعد اپنی تاریخ کی سب سے بڑی آمدنی حاصل کرنے والا ہے۔

بھارت کے خلاف ہونے والی ہوم سیریز میں اسے اسپانسرشپ کی مد میں ایک سو بیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی جن میں سے سات ملین ڈالر زرمبادلہ کی شکل میں بھارت سے آئیں گے جبکہ گیٹ منی سے حاصل ہونے والے آٹھ کروڑ روپے اس کے علاوہ ہیں۔

گیارہ ستمبر کے واقعہ نے جہاں پاکستان کو اس خطے میں غیرمعمولی حیثیت سے دوچار کردیا اور جو شعبے اس سے متاثر ہوئے ان میں دنیائے کھیل خاص کر کرکٹ قابل ذکر ہے۔

 تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں گیٹ منی سے آٹھ کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے
غیرملکی کرکٹ ٹیموں نے سکیورٹی کو بنیاد بناکر پاکستان آنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز ملک سے باہر کھیلنی پڑی۔ تاہم اب حالات پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے سازگارمعلوم ہوتے ہیں اور اس کی تمام تر مالی مشکلات بھارت کے خلاف یادگار ہوم سیریز سے دور ہونے والی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی یہ سیریز جہاں عام شائقین کی غیرمعمولی توجہ حاصل کررہی ہے وہاں تشہیر کی دنیا میں بھی اس کے زبردست چرچے ہیں۔ نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی کمپنیوں نے بھی اس میں زبردست دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹی وی نشریاتی حقوق اور اسپانسرشپ کی مد میں ایک سو بیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی جو پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ریکارڈ ہے۔

تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں گیٹ منی سے آٹھ کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھارت کے خلاف سیریز کے بعد کروڑوں میں کھیلے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے اسپانسرشپ اور دیگر معاملات کو صاف شفاف طریقے سے نمٹانے کے لئے مشہور مارکیٹنگ ماہر ریاض محمود اور قانونی مشیر ، احمد حسین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ان لوگوں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ بہت ہی مختصر وقت میں آنے والی پیشکشوں کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوسکا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نو میں سے پانچ شعبے ایسے ہیں جن میں کی جانے والی پیشکشیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مقررہ کردہ قیمت سے زیادہ تھیں۔ لہذا ان سے فوراً ہی معاہدے کرلئے گئے بقیہ کے ساتھ معاہدہ اس وقت کیا گیاجب ان کی پیشکش پاکستان کرکٹ بورڈ کی مقرر کردہ قیمتوں کے مساوی پہنچیں۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ گراؤنڈز میں مصنوعات کی تشہیر کے ضمن میں توازن کی پالیسی برقرار رکھی گئی ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کسی طور بھی نظرانداز نہ ہوسکیں۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ ٹی وی نشریاتی حقوق کے سلسلے میں ٹین اسپورٹس سے پہلے معاہدہ ایک کروڑ ڈالر کا تھا جو اب ایک کروڑ تینتس لاکھ ڈالر کا ہوگیا ہے کیونکہ دورے میں میچزکی تعداد زیادہ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ ریاض محمود کا کہنا ہے کہ کمپنیوں سے معاہدے کرتے وقت ان کا پس منظر بھی دیکھا گیا اور بینک گارنٹی بھی حاصل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیئس کمپنیوں نے ٹینڈرز میں دلچسپی ظاہر کی تھی لیکن ان میں سے بارہ مقابلے میں آئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد