’آئی سی سی سے رجوع کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ شہریارخان نے واضح کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورۂ پاکستان منسوخ ہونے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ ہونے والے زبردست مالی نقصان کی تلافی اور ہرجانے کے لئے آئی سی سی سے رجوع کرے گا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ اور ایک بھارتی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں شہریار خان نے کہا ہے کہ ابھی تک بھارتی کرکٹ بورڈ نے دورے کی منسوخی کے بارے میں باضابطہ کوئی بات نہیں کی ہے اور طے شدہ پروگرام کے تحت یہ دورہ برقرار ہے۔ لیکن، انہوں نے کہا، اگر بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر نہیں آئی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس کرکٹ کے عالمی ادارے سے رجوع کرنے کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ نہ ہوگا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم آئندہ ماہ کئی مقابلوں کی ایک سیریز کھیلنے پاکستان کے دورے پر آنے والی ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ نے دورے میں ٹیم کی حفاظت کے لیے اقدامات اور دیگرسہولتوں کا جائزہ لینے کے لئے تین رکنی وفد پاکستان بھیج رکھا ہے جو پیر کو وطن واپس پہنچ کر اپنی رپورٹ کرکٹ بورڈ کو دے گا۔ گزشتہ چند روز سے اس تاریخی دورے کے ضمن میں جو پندرہ سال کے طویل انتظار کے بعد ہونے والا ہے غیریقینی صورتحال کا سامناہے۔ بھارتی اخبارات اس قسم کی خبریں متواتر سے شائع کررہے ہیں جن میں بھارتی ٹیم کو مختلف جواز کے تحت پاکستان کے دورے سے باز رہنے کے لئے کہا گیا ہے جن میں اب پاکستان سے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کا معاملہ بھی شامل ہوچکا ہے جس کا بظاہر کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سے قبل بھی بھارت کے پاکستان کے ساتھ نہ کھیلنے کے نتیجے میں زبردست مالی نقصان سے دوچار ہوچکا ہے لیکن آئی سی سی کی بے بسی اس کے آڑے آچکی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سیریز منسوخ ہونے کے نتیجے میں ایک بڑی رقم سے محروم ہوسکتا ہے کیونکہ اس نے ٹی وی حقوق اور دیگر اسپانسرشپ کی مد میں بڑے معاہدے کرلئے ہیں اور اس کی طرف سے سیریز کی تیاری آخری مرحلے میں ہے۔ بھارتی حکومت کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے فیصلے اور بھارتی وزیراعظم کے دورۂ پاکستان کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کی جو امید ہوئی تھی وہ موجودہ صورتحال میں دھندلانے لگی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||