BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 October, 2003, 11:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بندوقوں کے سائے میں کرکٹ

انضمام الحق اور گراہم سمتھ
انضمام الحق اور گراہم سمتھ کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے

کسی بھی سربراہ مملکت جیسی سکیورٹی میسر آنے کے بعد جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم بدھ کو سٹی ناظم الیون کے خلاف پاکستان کے دورے کا پہلا میچ کھیلنے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں اتری تو سینکڑوں اسلحہ بردار کمانڈوز اور پولیس جوانوں کی موجودگی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہیڈ کوارٹر کسی حساس فوجی تنصیب یا ہیڈ کوارٹر کا نقشہ پیش کررہا تھا جنہوں نے اسٹیڈیم کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔

گلبرگ پولیس کے اے ایس پی محمدعلی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ میچ تین اور پانچ اکتوبر کو ہونے والے دو ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی فل ڈریس ریہرسل بھی ہے۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم کی حفاظت کا جو پلان تیار کیا گیا تھا ہر چیز اس کے مطابق ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وارم اپ میچ کے لئے مجموعی طور پر دو ہزار پولیس والوں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ چونکہ ان کے ماتحت تین تھانوں گلبرگ نصیرآباد اور مین مارکیٹ میں نفری زیادہ نہیں ہے لہذا دوسرے تھانوں سے پولیس طلب کرنی پڑی ہے۔

قذافی اسٹیڈیم کےچودہ اسٹینڈز ہیں۔ وارم اپ میچ کے موقع پر اس کے ہر اسٹینڈ میں بیس پولیس جوان بٹھائے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کے بقیہ حصوں میں بھی جوان تعینات کئے گئے تھے۔ اسٹیڈیم کے باہر بھی پولیس کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ ایلیٹ پولیس کے اسلحہ بردار کمانڈوز ڈریسنگ روم کے باہر مستعد کھڑے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے جنرل منیجر کرکٹ آپریشنز ذاکرخان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تمام حفاظتی انتظامات صرف جنوبی افریقی ٹیم کے لئے ہیں اور شائقین کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لئے تمام ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ شائقین کرکٹ کا بھرپور لطف اٹھائیں گے۔

یونائیٹڈ کرکٹ بورڈ آف ساؤتھ افریقہ کے صدر رے مالی بھی ٹیم کے ساتھ پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ دورے میں ہونے والی تاخیر کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ سکیورٹی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کا کراچی میں نہ کھیلنے کا فیصلہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔

انہوں نے سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر دوروں کی منسوخی کے ضمن میں آئی سی سی کے فورم پر قانون سازی کے بجائے ایسا طریقہ کار وضع کرنے پر زور دیا جس میں کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان گریم اسمتھ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانیوں سے خوفزدہ نہیں بلکہ بم سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے کے بعد اب ان کی توجہ پاکستان ٹیم کو شکست دینے پر مرکوز ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد