پنڈی کے شائقین کی محرومی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سہ فریقی ون ڈے سیریز کا چوتھا میچ ہفتے کو زمبابوے اور سری لنکا کے درمیان راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جارہا ہے۔ اسی میدان پر یہی دونوں ٹیمیں پیر کو دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آئیں گی۔ زمبابوے کی ٹیم پاکستان کے خلاف اپنے دونوں میچ ہارچکی ہے جبکہ سری لنکا نے بھی سیریز کا آغاز پاکستان کے ہاتھوں شکست کے ساتھ کیا ہے۔ پاکستانی ٹیم تین میچ جیت کر پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکی ہے۔ زمبابوے کی ٹیم نئی شکل میں حریف ٹیموں کو زیر کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی۔ حالانکہ چند ایک مواقع پر وہ مدمقابل کو پریشان کرچکی ہے جیسا کہ اس نے چیمپئنز ٹرافی میں سری لنکا کو آُسانی سے نہیں جیتنے دیا اور اس کی چھ وکٹیں حاصل کرڈالیں۔ اسی طرح موجودہ سہ فریقی سیریز کے دونوں میچوں میں اس نے پاکستانی ٹیم کو ابتدا میں سکون کا سانس نہیں لینے دیا لیکن میچ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں کرنے میں اسے ابھی تک کامیابی نہیں ہورہی ہے۔ اس کے مقابلے میں سری لنکا کی ٹیم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے پاکستان کے خلاف ایک اچھی شراکت کے بعد حیران کن طور پر اس کی بیٹنگ ڈھیر ہوگئی اور پھر ابتدائی کامیابیوں کے بعد اس کے بولرز مزید وکٹیں حاصل نہ کرسکے اس وکٹ پر جہاں تیز بولرز کے لیے کچھ نہ تھا مرلی دھرن کی کمی یقینی طور پر محسوس ہوئی۔ اسے پنڈی کے کرکٹ شائقین کی بدقسمتی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس سہ فریقی کرکٹ سیریز میں پاکستانی ٹیم کو اپنے سامنے کھیلتا نہیں دیکھ سکیں گے۔ اس کا سبب پاکستان کرکٹ بورڈ اور راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان کافی عرصے سے موجود اختلافات بتایا گیا ہے جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے پنڈی کو غیر اہم میچ دئے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ قذافی اسٹیڈیم اور نیشنل اسٹیڈیم کی طرح راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کا خواہاں رہا ہے تاکہ اس کی مناسب دیکھ بھال کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی میچوں کے قابل رکھا جاسکے لیکن اسے اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہوسکی اور یہ اسٹیڈیم بدستور مقامی انتظامیہ کے پاس ہے جس کے بارے میں عام شکایت یہ ہے کہ جب میچ ہوتے ہیں تب ہی اس پر توجہ دی جاتی ہے۔ پنڈی اسٹیڈیم فلڈ لٹ کی سہولت سے بھی آراستہ ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پنڈی اسٹیڈیم کی خراب حالت کے بعد یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ لائٹس کو کسی دوسرے اسٹیڈیم میں منتقل کردے گا۔ یہ بات بڑی حیران کن معلوم ہوتی ہے کہ راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایکریڈیشن کارڈز کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔ اس سیریز میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے جاری کردہ ایکریڈیشن کارڈز کے ہوتے ہوئے پنڈی کی انتظامیہ نے اپنے ڈیوٹی کارڈز جاری کئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||