پاکستان : گرتے سنبھلتے میچ جیتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان کے پہلے ون ڈے میں پاکستان کے ہاتھوں 144 رن کی شکست سے دوچار ہونے والی زمبابوے کی کرکٹ ٹیم پشاور میں مختلف روپ میں نظر آئی جس کے نتیجے میں پاکستانی ٹیم نے سخت تگ ودو کے بعد3 وکٹوں کی جیت کے ساتھ سکون کا سانس لیا۔ پاکستان کےچار تجربہ کار کھلاڑیوں کی غیرموجودگی سے اپنے حوصلے بڑھاتے ہوئے زمبابوے نے پہلے مقررہ 50 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر252 رنز بنائے۔ جواب میں پاکستان نے جب سات وکٹوں پر مطلوبہ اسکور پورا کیا تو گیارہ گیندیں باقی رہتی تھیں۔ مین آف دی میچ یونس خان قرار پائے۔ گروئن کی تکلیف میں مبتلا انضمام الحق کی جگہ قیادت کی ذمہ داری یوسف یوحنا نے نبھائی۔ معین خان کے فلو میں مبتلا ہونے کے سبب ریگولر وکٹ کیپر کامران اکمل کو طلب کرلیا گیا تھا لیکن حیران کن طور پر نان ریگولر وکٹ کیپر یونس خان سے کیپنگ کرائی گئی۔ غالبًا پاکستانی کرکٹ کے کرتا دھرتا بھی بھارت کی طرز پر یونس خان کو راہول ڈریوڈ بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم پانچ بولرز کے ساتھ یہ میچ کھیلی۔ اگر شعیب اختر کو آرام ہی کرانا تھا تو عبدالرزاق کو کھلایا جاسکتا تھا۔ محمد سمیع فرنٹ لائن بولر کے طور پر کھیلے لیکن وہ زمبابوے کی بیٹنگ پر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہے۔ اسی طرح رانا نویدالحسن اور راؤ افتخار بھی مؤثر ثابت نہ ہوسکے۔ رانا نویدالحسن نے دس اوورز میں 82 رنز دے ڈالے جو ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں وقاریونس کے86 اور عطاء الرحمن کے 85 رنز کے بعد پاکستان کی تیسری مہنگی ترین بولنگ ہے۔ پاکستان نے 253 رنز کا تعاقب انتہائی مایوس کن انداز میں شروع کیا۔ ملتان کی طرح یہاں بھی یاسرحمید بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ بازید خان بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین کی راہ دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ سلمان بٹ نے چند دلکش اسٹروکس کھیلے لیکن 30 کے اسکور پر وہ چگمبرا کو آسان کیچ تھماگئے۔ یہ تینوں وکٹیں پنینگارا کے حصے میں آئیں۔ جب مصباح الحق23 رنز پر آؤٹ ہوئے توپاکستانی ٹیم89 رنز پر چوتھی وکٹ کھونے کے نتیجے میں مشکلات میں گھرچکی تھی۔ اس صورتحال میں شعیب ملک اور یونس خان نے ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے114 رنز کا اضافہ کیا۔ شعیب ملک اسی رنز کی شاندار اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم جیت سے50 رنز دور تھی۔ یونس خان نے ستتر رنز کی شاندار اننگز سے اپنا اعتماد بحال کیا۔ وہ جب آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم جیت سے صرف ایک رن دور رہ گئی تھی۔ شاہد آفریدی نے مخصوص انداز میں چھکے کے ساتھ میچ ختم کیا۔ پہلے میچ کے مقابلے میں اس مرتبہ مہمان بلے بازوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ماتسیکنیری اور برینڈن ٹیلر نے پہلی وکٹ کی شراکت میں87 رنز بنائے جو سفید فام کھلاڑیوں کی بغاوت کے بعد زمبابوے کے بارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت ہے۔ ماتسیکنیری چھ چوکوں کی مدد سے41 رنز کی خوبصورت اننگز کھیل کر شاہد آفریدی کی گیند پر محمد سمیع کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے لیکن اگلی ہی گیند پر سمبادا بھی کوئی رن بنائے رنز رن آوٹ ہوگئے۔ اس مرحلے پر برینڈن ٹیلر اور ڈیون ابراہیم نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 72 قیمتی رنز کا اضافہ کرکےپاکستانی ٹیم کی مایوسی میں اضافہ کردیا۔ برینڈن ٹیلر نے73 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جس میں چھ چوکے بھی شامل تھے بارہ میچوں میں یہ ان کی چوتھی نصف سنچری ہے۔ ڈیون ابراہیم نے بھی ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہو ئے نصف سنچری سکور کی اور 71 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ رانا نویدالحسن نے اپنےساتویں اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں لیکن پہلے چار اوورز میں انہوں نے38 رنز دیے اور اننگز کا اختتام دس اوورز میں82 رنز کے ساتھ کیا۔ پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھی: یوسف یوحنا ( کپتان)، بازید خان، یاسرحمید، سلمان بٹ، مصباح الحق، یونس خان، شاہد آفریدی، شعیب ملک، رانا نویدالحسن، محمد سمیع اور راؤ افتخار۔ زمبابوے کی ٹیم کے کھلاڑی یہ ہیں: ٹاٹنڈا ٹائبو( کپتان)، برینڈن ٹیلر، ماتسیکنیری، سبانڈا، ڈیون ابراہیم، مارک ورلومین، چگمبرا، این کالا، پنینگارا، اوتسیا، ہونڈو۔ سہ فریقی سیریز کا تیسرا میچ بدھ کو کراچی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||