BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کرکٹ نے رستہ بنا دیا‘

میچ کا شوقین بچہ
اپنے گالوں پر پاکستان اور بھارت کے جھنڈے سجائے
تراسی سالہ انوپ چند تحصیل پنڈدادن خان ضلع جہلم میں پیدا ہوئے انسٹھ برس کے بعد اپنی پیدائش کی جگہ دیکھنے کے لیے پاکستان آئے ہیں اور وجہ بنی پاک بھارت کرکٹ سیریز۔

انوپ چند کہتے ہیں کہ سچی بات تو یہ ہے کہ انہیں کرکٹ کا کوئی شوق نہیں لیکن ویزہ ملنے کا یہی طریقہ تھا۔

انوپ چند کہتے ہیں کہ انہیں اپنا آبائی گھر دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ ’لگتا ہے کہ جیسے دس سال میری عمر بڑھ گئی ہو‘۔

انوپ چند راولپنڈی اور لاہور میں ہونے والے ایک روزہ میچز کے لیے چھ دن کا ویزہ لگوا کر آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران ضلع شیخوپورہ بھی ضرور جائیں گے جہاں سانگلہ ہل کے پاس ان کی زمین تھی وہ اپنا گاؤں اپنے زمینیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاک بھارت ایک روزہ سیریز کے لیے سینکڑوں بھارتی شہری پاکستان پہنچ چکے ہیں ان میں زیادہ تر واہگہ بارڈر عبور کر کے آئے ہیں۔

گو کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز دونوں ملکوں کے عوام کے لیے کافی اہمیت رکھتی ہے لیکن بھارت سے آئے ان لوگوں میں سے بہت سے ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ کرکٹ تو ایک بہانہ ہے وہ تو پاکستان دیکھنے آئے ہیں۔

چندر شیکھر خود تو تقسیم ہندوستان کے دو سال بعد پیدا ہوئے لیکن ان کے والدین ملتان کے رہنے والے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ میچز تو دیکھیں گے ہی لیکن ان کے آنے کا اصل مقصد ملتان شہر دیکھنا ہے جہاں کبھی ان کے والدین رہا کرتے تھے۔

دہلی کے ایک بزنس مین اشوک گپتا کے مطابق ان کے آنے کا بڑا مقصد پاکستانی لوگوں سے ملنا اور انہیں قریب سے دیکھنا ہے۔

اشوک گپتا کے مطابق دونوں ملکوں کے سیاست دان اور حکمران ہم میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور میں یہی دیکھنے آیا ہوں کہ ان کی تمام باتیں غلط ہیں اور دونوں ملکوں کی عوام ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں سمجھنا چاہتے ہیں۔ سیاست دانوں نے جو دیوار کھڑی کر رکھی ہے ہم اسے گرانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اشوک گپتا نے کہا کہ ہمیں یہاں کے لوگوں نے بہت پیار دیا اور اسی پیار کو پانے کے لیے آئے ہیں کرکٹ میچز تو بس بہانہ ہے۔

ایک نوجوان بھارتی خاتون رچیکا کو بھی پاکستان دیکھنے کا کافی شوق ہے رچیکا کہتی ہیں کہ بھارتی فلموں خصوصًا ویر زارا میں پاکستان کے بارے میں دیکھ کر ان کے تجسس میں بہت اضافہ ہوا وہ پاکستان آنا چاہتی تھیں لیکن یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ویزہ صرف میچ دیکھنے کے لیے ہی ملتا ہے۔

رچیکا کو پاکستان بھارت سے زیادہ ترقی یافتہ لگا خاص طور پر راولپنڈی اور لاہور کے درمیان موٹروے پر تو سفر کا انہیں بہت لطف آیا۔ رچیکا کے بقول بھارت میں اتنی اچھی سڑکیں نہیں ہوتیں۔

دہلی سے آئی سدھا گپتا گھریلو خاتون ہیں ٹی وی پر ون ڈے میچ تو دیکھ لیتی ہیں لیکن کبھی اپنے ملک میں سٹیڈیم میں میچ دیکھنے نہیں گئیں۔ سدھا کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے تیرہ افراد یہ ایک روزہ میچ دیکھنے آئے ہیں انہوں نے پیدل واہگہ باڈر عبور کیا جس کا مقصد واہگہ باڈر پر ہونے والی جھنڈا اتارنے کی تقریب ہے وہ دراصل دیکھنا چاہتے تھے کہ ماضی میں کیسے دونوں ملک جڑے ہوئے تھے اور پھر کیسے الگ ہوئے۔ سدھا کے بقول جھنڈا اتارنے کی تقریب کا یہ منظر ایک عجیب احساس لیے ہوئے تھا۔

آشا نے بتایا کہ ویزہ لینے میں کافی مشکلات آئیں لیکن ہم نے بھی ٹھان رکھا تھا کہ پاکستان ضرور جانا ہے ان کا کہا تھا کہ پنڈی سٹیڈیم میں بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ دیکھ کر مزا آ رہا ہے لیکن میچ کے بعد شہر گھومنے جائیں گے اور در حقیقت ہم ادھر گھومنے پھرنے ہی کے لیے آئے ہیں۔

اومان میں مقیم بھارتی کرکٹ شائقین کا ایک کافی بڑا گروپ بھی پاک بھارت سیریز کو دیکھنے کے لیے آیا ہے۔ اومان سے آئے کرن آشر کا کہنا ہے کہ اومان میں کرکٹ کا بہت شوق پایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ بھارت بھی بھارتی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے میچز دیکھنے جاتے ہیں اور یہاں بھی اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے آئیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد