پچوں کی تیاری، موسم کی گڑبڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے خلاف اس ماہ کھیلی جانے والی سیریز کے لیے پچیں تیار کرنے کی راہ میں شدید موسمی حالات رخنہ اندازی کررہے ہیں۔ دھند اور بارشوں کے باعث پاکستان کو اپنے منصوبے کے مطابق سخت پچیں تیار کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ پاکستانی کپتان انضمام الحق کا منصوبہ ہے کہ بھارت کے ماہر بلے بازوں سے نمٹنے کے لیے باؤنسی یا گیند کو واپس اچھالنے والی پچیں بنائی جائیں تاکہ پاکستانی فاسٹ بالرز کو اپنے اٹیک میں آسانی رہے۔ تاہم فیصل آباد اور لاہور کے گراؤنڈز جہاں پہلے دو ٹیسٹ میچ کھیلے جانے ہیں، بارشوں کے باعث گیلے ہیں۔ گراؤنڈ کے ماہر آغا زاہد کا کہنا ہے: ’ہم اپنی پوری کوشش کرہے ہیں لیکن باؤنسی پچ بنانے کے لیے یہ بالکل اچھا موسم نہیں ہے کیونکہ پچ کو خشک ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔‘ ’پچیں خشک کرنے کے لیے ہمیں تین دن مسلسل دھوپ کی ضرورت ہے۔ لاہور اور فیصل آباد میں تو یہ مشکل نظر آتا ہے لیکن کراچی میں ایسا کرنا باآسانی ممکن ہے۔‘ پروگرام کے مطابق بھارتی ٹیم پانچ جنوری یعنی جمعرات کو پاکستان پہنچے گی۔ دونوں ٹیمیں تین ٹیسٹ میچ اور پانچ ون ڈے میچ کھیلیں گی۔ یہ دو سال میں بھارتی ٹیم کا دوسرا دورہ ہے۔ پہلا ٹیسٹ تیرہ جنوری سے شروع ہوگا۔ انگلینڈ کے ساتھ حالیہ سیریز میں زبردست کامیابی نے پاکستانی کھلاڑیوں کے حوصلے کافی بلند کردیے ہیں۔ اس سیریز میں پاکستان نے انگلینڈ کو 0-2 سے شکست دی جبکہ ایک روزہ میچوں میں پانچ میں سے تین میچ پاکستان نے جیت کر انگلینڈ کو سیریز میں شکست سے دوچار کیا۔ انضمام بھارتی سپنرز انیل کمبلے اور ہربھجن سنگھ کے بارے میں کچھ تشویش کا شکار ہیں اور اسی لیے ایسی پچیں چاہتے ہیں جو تیز بالروں کا ساتھ دیں۔ دوسری جانب نائب کپتان یونس خان کے خیال میں موسمی حالات پاکستانی ٹیم کے لیے مشکل کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’صبح کے وقت دھند سے کھیل کے معمول کے آغاز میں فرق پڑسکتا ہے جبکہ دن کا چھوٹا دورانیہ شام کے وقت کھیل کو مشکل تر کردے گا۔‘ ’پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ لاہور میں دھند صرف اور صرف بارش کے بعد چھٹتی ہے۔‘ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||