BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 14:07 GMT 19:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دورہ کا شیڈول طے کرنے میں مشکلات

شہریار خان
’پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اور کوئی تاریخیں بھی نہیں ہیں‘
عاشورۂ محرم کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھارتی ٹیم کے دورۂ پاکستان کا شیڈول طے کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

بھارتی ٹیم نے اپنے دورے کے دوران فروری کے مہینے میں پانچ ایک روزہ میچ کھیلے گی اور اس دوران ماہِ محرم کی وجہ سے میچوں کے دوران سکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ عاشورۂ محرم کی وجہ سے بھارتی ٹیم کے شیڈول میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے اور اب سیریز کا پہلا ایک روزہ میچ جو کہ چھ فروری کو پشاور میں ہونا تھا، راولپنڈی میں ہو گا اور راولپنڈی میں آٹھ فروری کو ہونے والا ایک روزہ میچ پشاور میں کھیلا جائے گا۔

تاہم جمعرات کو اس صورتحال میں ایک موڑ اس وقت آیا جب پشاور کی انتظامیہ نے بھی سکیورٹی کے مسئلے کی وجہ سے آٹھ فروری کو میچ کے انعقاد سے معذرت کر لی۔

راولپنڈی کی پولیس انتظامیہ کا کہنا تھا کہ عاشورۂ محرم کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے حساس نوعیت کے علاقوں کی حفاظت کے لیے کافی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے سٹیڈیم کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار مہیا کرنا ممکن نہیں اور اب پشاور کی انتظامیہ نے بھی انہی وجوہات کی بنا پر میچ کے انعقاد سے انکار کیا ہے۔

اس صورتحال پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ پہلے تینوں میچ لاہور میں کروا لیے جائیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی ٹیم کو ہر صورت انیس فروری کو اپنے وطن واپس جانا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اور کوئی تاریخیں بھی نہیں ہیں‘۔

شہریار خان کا کہنا تھا کہ ’ نو اور دس محرم کو تو میچ نہیں کروائے جا سکتے اور ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ نو اور دس محرم فروری کی کن تاریخوں میں آئے گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ وزارتِ داخلہ، مقامی انتظامیہ، پولیس اور رینجرز کے علاوہ دیگر ایجنسیوں سے رابطے میں تو ہیں مگر اس دورے کا حتمی شیڈول کیا ہوگا اس کا فیصلہ بہت مشکل ہے۔

عاشورۂ محرم کے سبب راولپنڈی اور پشاور کی انتظامیہ نے تو معذرت کر لی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لاہور میں بھی عاشورہ کے موقع پر پولیس کو ہائی الرٹ رہنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد