BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 21:13 GMT 02:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی سی سی شبیر پر پابندی ختم کرے‘

شبیر
شبیر چودہ دن کے اندر سپیشل بالنگ رویو کمیٹی کے پاس اپیل کر سکتے ہیں
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بالر شبیر احمد پر بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر آئی سی سی کی جانب سے لگنے والی ایک سال کی پابندی پر اپیل دائر کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن سلیم الطاف کے مطابق پی سی بی اس پابندی کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

شبیر احمد جن پر ایک سال میں دو مرتبہ غیر قانونی بالنگ ایکشن پر رپورٹ ہونے اور ویسٹرن آسٹریلیا کے ایک خود مختار ادارے سے ملنے والی بائیو مکینکس رپورٹ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر کرکٹ آپریشن سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ بائیو مکینکس ماہرین کی رپورٹ میں کچھ ایسا مواد موجود ہے جس کی بنیاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ یہ اپیل دائر کرئے گا ۔

سلیم الطاف نے کہا کہ شبیر احمد کی تمام گیندیں غیر قانونی بالنگ ایکشن کی زد میں نہیں آتیں۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نے اکتوبر میں شبیر کو ٹیسٹ کے لیے آسٹریلیا بھجوایا تھا اور وہاں کے ماہر ڈیرل فوسٹر کاخط جمعرات کو موصول ہوا ہے جس کے مطابق شبیر احمد کی تمام گیندیں مشکوک نہیں ہیں۔

آئی سی سی کے نئے قانون کے مطابق ایک بولر کو اجازت ہے کہ وہ پندرہ ڈگری تک اپنی کلائی کو خم دے سکے اور اگر وہ اس سے تجاوز کرے تو اس کا اندازہ انسانی آنکھ لگا سکے۔

سلیم الطاف نے کہا کہ اس سال کے آغاز میں بھی شبیر احمد رپورٹ ہوئے تھے لیکن بعد میں ان کے بالنگ ایکشن پر کام ہوا اور ایکشن بہتر ہو گیا اور بائیو مکینکس رپورٹ میں بھی وہ کلیئر ہو گئے تھے۔

شبیر احمد کو اس سال دوسری مرتبہ انگلینڈ کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں امپائر سائمن ٹافل اور بلی باؤڈن اور ٹی وی ایمپائر اسد رؤف نے غیر قانونی ایکشن پر رپورٹ کیا جس کے بعد ان پر پابندی لگا دی گئی۔

انتیس سالہ بالر شبیر احمد کا جو کہ اس پابندی کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہنے کا سوچ رہے تھے ، کہنا ہے کہ اس تمام سلسلے سے میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور پی سی بی کے اس فیصلے سے انہیں کچھ حوصلہ ملا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ انہیں انصاف مل جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد