بھارت مستحکم پوزیشن میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمد آباد ٹیسٹ کے تیسرے روز کے اختتام پر بھارت نے چار سو اناسی رن کی برتری حاصل کر کے میچ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ مرلی دھرن اور بندرہ کی تین تین وکٹوں کے باوجود بھارت نے نو وکٹوں کے نقصان پر دو سو ستاسی رن بنا لیے۔ بھارت کے ابتدائی بلے باز جلدی آؤٹ ہو گئے تاہم یوراج سنگھ نے تراسی گیندوں پر پچھہتر رن بنا کر بھارتی اننگز کو سہارا دیا۔ اس سے قبل سری لنکا کی پوری ٹیم کھانے کے وقفے تک دو سو چھ رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ بھارتی سپنر ہربھجن سنگھ نے باسٹھ رن کے عوض سات وکٹیں حاصل کیں۔ مہمان ٹیم کو ایک بڑا ہدف دینے کی کوشش میں بھارت کے شروع کے بلے باز بہت جلدی آٰؤٹ ہو گئے اور چونتیس کے سکور پر اس کی تین وکٹیں گر چکی تھیں۔ بھارتی اوپنر سہواگ صفر کے سکور پر پہلی گیند پر لسیتھ ملنگا کی گیند پر فرویز معروف کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے لکشمن نے صرف پانچ رن بنائے۔ ان کا کیچ معروف کی گیند پر وکٹ کیپر کمار سنگاکارا نے پکڑا۔ اگلے آؤٹ ہونے والے بلے باز سچن ٹنڈولکر تھے جو انیس رن بنا کر دلشان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد یوراج نے گوتم گھمبیر، محمد کیف، دھونی اور عرفان پٹھان کے ساتھ مل کر ایک سو چالیس رن بنائے۔ گھمبیر نے تیس، کیف نے نو، دھونی نے چودہ اور عرفان پٹھان نے ستائیس رن بنائے۔ یوراج نے تیرہ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی تیسری نصف سنچری بنائی اور بالآخر بندرہ کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ اجیت اگرکار نے دھواں دار بلے بازی کرتے ہوئے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اڑتالیس رن بنائے اور ان کو بندرہ نے اپنی ہی گیند پر کیچ کر لیا۔ ستاسٹھ رن کے عوض تین وکٹیں بندرہ کی بہترین بالنگ ہے۔ آخر میں آنے والے بلے باز ہربجن سنگھ اور انیل کمبلے نے بالترتیب انیس اور تئیس رن بنا کر سری لنکا کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ اس سے پہلے دن کے آغاز میں سری لنکا نے اپنی پہلی اننگز ایک سو اکتیس رن پانچ کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی لیکن ہربجن سنگھ اور انیل کمبلے نے انہیں جلدی آؤٹ کر دیا۔ سری لنکا کے لیے سب سے زیادہ سکور دلشان نے کیا، جنہوں نے پینسٹھ رن بنائے۔ اننگز کے اختتام پر بندرہ نے کچھ عرصہ مزاحمت کی اور اٹھائیس رن بن کر ناٹ آؤٹ رہے۔ سری لنکا کو تین میچوں کی اس سیریز میں دوسری شکست سے بچنے کے لیے ایک بہت بڑے ہدف کا سامنا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑا ہدف دو سال قبل ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کے خلاف سینٹ جانز کے میدان میں حاصل کیا تھا جو کہ چار سو اٹھارہ رن تھا۔ |
اسی بارے میں پرتھ: بریڈ ہوج کی ڈبل سنچری19 December, 2005 | کھیل بھارتی ٹیم مضبوط پوزیشن میں19 December, 2005 | کھیل شین وارن کےنام ایک اور ریکارڈ 17 December, 2005 | کھیل ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے: وان17 December, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||