عامر خان متاثرہ علاقوں کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ انیس سالہ عامر خان برطانوی خیراتی تنظیم آکسفیم کے ہمراہ مظفرآباد آئے تھے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران کہا کہ دنیا کو متاثرین کی حالت زار کو نہیں بھولنا چاہیے اور ان کی مزید مدد کرنی چاہیے ۔ عامر خان نے مظفرآباد کے جنوب میں کوئی بیس کلومیڑ کے فاصلے پر چھتر کلاس میں زلزلے سے متاثرہ لوگوں کے لئے قائم خیمہ بستی کا دورہ کیا ۔ اس خیمہ بستی میں میں کوئی تین ہزار لوگ لگ بھگ چار سو خیموں میں آباد ہیں۔ برطانوی باکسر عامر خان نے وہاں پر صحافیوں اور متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے پاس کھانے کے لیے خوراک نہیں، رہنے کے لیے گھر نہیں اور بہت ساروں کے والدین ان سے بچھڑ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سارے لوگ اس آفت کو اور متاثرہ لوگوں کی حالت زار کو بھول چکے ہیں۔ عامر خان نے کہا کہ ’ہمیں ان لوگوں کی ہر ممکن امداد کرنی چاہیےاور یہ کہ ہم اس سے آنکھیں نہیں موڑ سکتے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بہت سردی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے زلزلے سے ہونے والی تباہی کی تصویریں دیکھی تھیں لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ یہ سانحہ کتنا بڑا ہے اور کتنی زیادہ امداد کی ضرورت ہے‘۔ عامر خان نے کہا کہ ’متاثرین کے لیے جو امداد آچکی ہے یا آرہی ہے وہ کافی نہیں ہے۔ ان لوگوں کو اور امداد کی ضرورت ہے۔ مزید خمیوں ، عارضی چھت اور خوراک کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے سخت موسم کا مقابلہ کرنے والے پچاس خیمے متاثرین میں تقسیم کیے۔ وہ چھتر کلاس کی اس خیمہ بستی میں بنے بچوں کے اسکول میں بھی گئے اور ان سے بات چیت کی۔ اس دورے پر عامر خان کے ہمراہ ان کے والد اور چھوٹے بھائی بھی تھے۔ اوکسفیم کی ڈائریکٹر باربرا سٹاکنگ نے بھی عامر خان کے دورے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عامر خان کا دورہ زلزلہ زدگان کی خراب حالت سے لوگوں کو آگاہ کرنے میں ہماری مدد کرے گا‘۔ | اسی بارے میں اہم شخصیات کے دورے، مفید یا مضر15 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: لوگ بیکار کیوں بیٹھے ہیں؟14 December, 2005 | پاکستان مظفر آباد کی تعمیرِ نو،گھپلے کا اندیشہ14 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||