شبیر احمد پر ایک سال کی پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فاسٹ بالر شبیر احمد پر آئی سی سی نے غیر قانونی بالنگ ایکشن کی پاداش میں ایک سال تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ شبیر بین الاقوامی کرکٹ میں پہلے بالر ہیں جن پر ایک سال کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق جو کھلاڑي ایک سال میں دو مرتبہ غیر قانونی بالنگ ایکشن پر رپورٹ ہو جائے اور یہ بات ثابت بھی ہو جائے تو اس پر ایک سال تک کی پابندی عائد کر دی جائے گی تاہم ابھی تک اس قانون کے تحت کسی کھلاڑي پر پابندی عائد نہیں ہوئی تھی اور یوں شبیر پہلے بالر بن گئے ہیں جن پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے یہ پابندی آسٹریلیا کے ایک خود مختار ادارے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہرین کی رپورٹ کے بعد عائد کی ہے۔ اس یونیورسٹی کے پروفیسر ایلیٹ کے مطابق شبیر کا ایکشن مشکوک دکھائی دیتا ہے۔ان کے مطابق لیبارٹری میں ہونے والے جائزے سے معلوم ہوتا ہے شبیر کا موجودہ بالنگ ایکشن پندرہ ڈگری کے خم سے تجاوز کر رہا ہے۔ شبیر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چودہ دن کے اندر اندر آئی سی سی کے سپیشل بالنگ رویو کمیٹی کے پاس اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکیں گے۔ شبیر احمد انگلینڈ کے خلاف ملتان میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں اس سال میں دوسری بار غیر قانونی بالنگ ایکشن پر رپورٹ کیے گئے تھے۔ انہیں امپائر سائمن ٹافل اور بلی باؤڈن نے رپورٹ کیا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان کی ٹیم کے ویسٹ انڈیز دورے کےدوران بارباڈوس میں ہونے والے ٹیسٹ میچ میں بھی امپائر ڈیوڈ شیفرڈ اور ڈیرل ہیئر نے انہیں رپورٹ کیا تھا۔ ملتان ٹیسٹ میں شبیر کے علاوہ سپن بالر شعیب ملک بھی غیر قانونی ایکشن پر اس سال میں پہلی مرتبہ رپورٹ ہوئے تھے اور وہ آسٹریلیا کی ویسٹرن یونیورسٹی میں آزادانہ بائیو مکینک جائزے کے لیے گئے تھے۔ اس ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق شعیب ملک نے میچ کے دوران اور اس ٹیسٹ کے دوران جو بالنگ کی وہ آئی سی سی کے قانون کے اندر تھی لہذا وہ بین الاقوامی کرکٹ بدستور کھیلتے رہیں گے۔ آئی سی سی کے چیف ایگویکٹو مالکم سپیڈ کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں افسوس ہے کہ شبیر پر یہ پابندی لگائی گئی ہے لیکن اس موقع پر یہ ایک مناسب قدم تھا۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا عباس زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ شبیر کی پابندی کے خلاف آئی سی سی کی بالنگ رویو کمیٹی میں اپیل دائر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ’شبیر میں قانونی دائرے میں رہ کر بالنگ کروانے کی اہلیت ہے اور اس ایک سال میں وہ خود پر کام کر کے اس عادت سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں‘۔ شبیر احمد نے اب تک دس ٹیسٹ میچز میں اکیاون اور بتیس ایک روزہ میچوں میں تینتیس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ | اسی بارے میں شبیر احمد: شمولیت مشکوک 18 November, 2005 | کھیل شبیر،شعیب ملک کےایکشن پراعتراض17 November, 2005 | کھیل میرا ڈر جاتا رہا: شبیر احمد15 November, 2005 | کھیل شبیر: 10 میچوں میں پچاس وکٹیں14 November, 2005 | کھیل ’شبیر کا کیرئر، دورہ انگلینڈ سےاہم ہے‘30 August, 2005 | کھیل شبیر: ذمہ داری وولمر کودیدی گئی05 August, 2005 | کھیل شبیر کی ذمہ داری عاقب پر 23 July, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||