’ابھی بہت کام کرنا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل ضرور آیا ہے لیکن ابھی ہمیں بہت کام کی ضرورت ہے اور ٹیم کو مزید بہتر بننے کے لیے اور محنت کرنا ہو گی۔ چوتھا ایک روزہ اور سیریز جیتنے کے بعد انضمام الحق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’ آج بھی ان کے بالرز نے اپنی زبردست بالنگ سے پاکستان کو چوتھے ایک روزہ میچ اور ون ڈے سیریزمیں فتح دلائی ہے‘۔ انضمام جو کہ سیریز جیت کر بہت مسرور دکھائی دیتے تھے انہوں نے کہا کہ اگرچہ دو سو دس کے ہدف کا دفاع کچھ مشکل تھا لیکن جس طرح پاکستانی بالروں نے آغاز میں ہی انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا تو انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پاکستان یہ میچ جیت لے گا۔ انضمام نے خاص طور پر شعیب اختر کی تعریف کی اور کہا کہ ٹیسٹ سیریز اور ایک روزہ سیریز کی کامیابی میں شعیب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکٹ کافی سلو تھی اور اس پر تیز سکور کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ انضمام جنہیں ٹانگ کے پٹھے میں تکلیف ہے اور وہ انگلینڈ کی انگز کے دوران گراؤنڈ سے باہر رہے انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے پانچواں میچ بھی کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ایک روزہ میں ٹیم میں ایک دو تبدیلیاں کی جائیں گی۔ انضمام الحق نے کہا کہ جب انگلینڈ ٹیم کے آخری بیٹس مین آؤٹ نہیں ہو رہے تھے تو ان کا دل چاھا کہ وہ گراؤنڈ میں جائیں لیکن وہ اپنی تکلیف کی وجہ سے نا جا سکے۔ انہوں نے یونس خان کی کپتانی کی تعریف کی۔ شبیر پر لگنے والی پابندی کی بابت انہوں نے کہا کہ ’انہیں اس کا افسوس ہے لیکن ہماری کوشش ہو گی کہ پہلے پاکستان میں اس پر کام کیا جائے اور پھر اسے آسٹریلیا بھجوا کر اس کا بالنگ ایکشن درست کروانے کی کوشش کی جائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں فل حال یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ ٹیم ورلڈ کپ جیتنے کی پوزیشن میں آگئی ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر سیریز میں ٹیم اچھی کارکردگی دکھائے اور ٹیم اچھا کھیل رہی ہے اور جیسے جیسے ہم اور اچھا کھیلیں گے ٹیم میں نکھار پیدا ہو گا اور یہی ورلڈ کپ کی تیاری ہے‘۔ انضمام نے کہا کہ باب وولمر کے آنے سے ٹیم نے کھیل کے تینوں شعبوں میں ترقی کی ہے اور باب وولمر فیلڈنگ کے شعبے پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ انگلینڈ ٹیم کے کپتان جوکہ سیریز ہارنے پر کافی مایوس تھے ان کے مطابق ’پاکستان کو دو سو دس پر آؤٹ کرنے کے بعد ہمارے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ ہم میچ جیت لیتے لیکن ہو نے یہ موقع گنوا دیا‘۔ ’ہمارے ٹاپ آڈر بیٹس مینوں نے آج پھر اچھی بیٹنگ نہیں کی۔رنز بنانا ہمارہ کام تھااور ہم اسے بعد میں آنے والے بیٹس مینوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔ہم نے اپنا کام نہیں کیا اور یہی شکست کی وجہ ہے‘۔ انہوں نے کبیر علی کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے نویں نمبر پر آ کر بہت اچھا کھیلا اور ہم میں جیت کی ایک موہوم سی امید پیدا ہوئی لیکن یہ امید بھی بالاخر ختم ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ شعیب بہت محنتی بالر ہے اور ایک روزہ سیریز میں وہ دونوں ٹیموں میں فرق ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ بات بھی مایوس کن ہے کہ ہم یہ سیریز ہار کر آئی سی سی کی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر آگئے ہیں‘۔ | اسی بارے میں انضمام الحق کے ستارے کیا کہتے ہیں18 November, 2005 | کھیل ’انضمام کا رن آؤٹ متنازعہ تھا‘21 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے آٹھ ہزار رن02 December, 2005 | کھیل ہدف ہار کی اصل وجہ تھی: انضمام10 December, 2005 | کھیل انضمام: ون ڈے میں گیارہ ہزار رن12 December, 2005 | کھیل ابھی سیریز جیتی نہیں ہے: انضمام15 December, 2005 | کھیل چوتھا میچ بہت اہم ہے: انضمام 18 December, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||