میچ کا دوسرا دن پاکستان کے نام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فیصل آباد ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں تین وکٹ کے نقصان پر ایک سو تیرہ رن بنا لیے۔ انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی ٹریسکوتھک تھے جو اڑتالیس رن بنا کر محمد سمیع کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ جب کھیل ختم ہوا تو این بیل چھتیس رن پر جبکہ کیون پیٹرسن چار رن پر کھیل رہے تھے۔ چائے کے وقفے کے بعد کھیل اس وقت کچھ دیر کے لیے رکا رہا جب میدان میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ یہ دھماکہ گیس کے ایک سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا۔ انگلینڈ کی جانب سے مارکس ٹریسکوتھک اور اینڈریو سٹراس نے محتاط طریقے سے اننگز کا آغاز کیا تاہم سٹراس بارہ رن بنا کر رانا نوید الحسن کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اس وقت انگلینڈ کا مجموعی سکور تینتیس رن تھا۔ کپتان مائیکل وان بھی صرف دو رن بنا سکے۔ انہیں رانا نوید نے ہی بولڈ کیا۔ اس سےقبل پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں کھانے کے وقفے کے فوراً بعد چار سو باسٹھ رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی شعیب اختر تھے جو بارہ رن بنا کر ہارمیسن کا تیسرا شکار بنے۔ دانش کنیریا چار کے انفرادی سکور پر ناٹ آؤٹ رہے۔ کھانے کے وقفے کے بعد جب میچ سروع ہوا تو کامران اکمل جائلز کی پہلی ہی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہو گئے۔ انہوں نے اکتالیس رن بنائے۔ محمد سمیع بھی اٹھارہ رن بنا کر جائلز کا شکار بنے۔ رانا نوید الحسن کو پچیس رن پر ہارمیسن نے بولڈ کیا۔
کپتان انضمام الحق نے اپنے کیریئر کی تیئیسویں سنچری سکور کی اور جاوید میانداد کے ہمراہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے بلے باز بن گئے۔ وہ ایک سو نو رنز بنا کر سٹیو ہارمیسن کے ایک تھرو سے بچنے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوئے۔ اس سے قبل شاہد آفریدی پچاسی گیندوں پر چھ چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے بانوے رنز بنا کر ہوگرڈ کی گیند پر ٹریسکوتھک کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انضمام اور آفریدی نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں ایک سو پنتالیس رن بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے ہارمیسن نے تین، جائلز اور ہوگرڈ نے دو ، دو جبکہ فلنٹوف، جائلز اور این بیل نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ میچ کے پہلے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے چار وکٹوں کے نقصان پر 300 رنز بنائے تھے۔
پاکستان نے پہلے ٹیسٹ کے بعد ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں۔ شبیر احمد کی جگہ رانا نوید الحسن کو اور حسن رضا کی شاہد آفریدی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ انگلینڈ کے لیے کپتان مائیکل وان کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔ پاکستان کو اس سیریز میں ایک ۔ صفر کی برتری حاصل ہے۔ تین میچوں کی سیریز کا آخری ٹیسٹ میچ لاہور میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کی ٹیم |
اسی بارے میں شاہد آفریدی کی شاندار واپسی20 November, 2005 | کھیل فیصل آباد ٹیسٹ، آسان نہ لیں: وولمر17 November, 2005 | کھیل انضمام الحق کے ستارے کیا کہتے ہیں18 November, 2005 | کھیل ٹریسکوتھک ٹیم کے ساتھ رہیں گے18 November, 2005 | کھیل سلمان بٹ سےسیکھیں19 November, 2005 | کھیل مائیکل وان، فٹ ہونے کیلیے پرامید12 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||