پاکستان اوپن کا فیصلہ کن میچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی نمبر ایک اور عالمی چیمپئن فرانس کے تھیری لنکو اس سال ٹورنامنٹ نہ جیتنے کے جمود کو توڑنے کے لیے عالمی نمبر تین آسٹریلیا کے ڈیوڈ پامر کے مقابل ہونگے۔ پاکستان اوپن کے فائنل تک رسائی کے لیے لنکو نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے انتھونی رکٹس کو چار گیمز میں شکست دی جبکہ ڈیوڈ پامر نے کمر کی تکلیف کے ساتھ کھیلتے ہوئے فرانس کے گریگوری گالٹئر کے چیلنج پر قابو پاتے ہوئے پانچ گیمز کے سخت مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ تھیری لنکو تحمل مزاج کھلاڑی ہیں ان کی یہ خوبی ان کی عمدہ کارکردگی میں اضافہ کردیتی ہے۔ انتھونی رکٹس کے خلاف پہلا گیم ہارنے کے بعد انہوں نے دوسرے گیم میں کسی دشواری کے بغیر کامیابی حاصل کی۔ تیسرے گیم میں جب رکٹس 10-7 کے اسکور پر جیت سے صرف ایک پوائنٹ کی دوری پر تھے لنکو نے پانچ مرتبہ گیم بال پر شکست کو پر ے دھکیلتے ہوئے 12-14 سے بازی اپنے نام کی۔ چوتھا گیم یک طرفہ رہا جس میں عالمی نمبر ایک نے 3-11 سے کامیابی حاصل کرکے خود کو ٹائٹل سے مزید قریب کرلیا۔ لنکو نے میچ کے بعد کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے بہت مطمئن ہیں اور پاکستان اوپن جیتنے کی بھرپور کوشش کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ رکٹس ایک خطرناک کھلاڑی ہیں جنہیں ہرانا آسان نہیں ہوگا۔ لنکو نے کہا کہ تیسرا گیم بڑی اہمیت کا حامل تھا اگر وہ اسے نہ جیت پاتے تو مشکل ہوسکتی تھی۔ اس میچ سے قبل دونوں کے درمیان ٹورنامنٹ آف چیمپئنز کے فائنل میں مقابلہ ہوا تھا جس میں رکٹس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ پامر اور گریگوری گالٹئر کا میچ بھی خاصا دلچسپ رہا جس کا فیصلہ پانچویں گیم میں ہوا۔ پامر ایک بار پھر اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے فاتح بن کر کورٹ سے باہر آئے لیکن کمر کی تکلیف اگر کم نہ ہوئی تو فائنل میں ان کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے۔ لنکو اور پامر کے درمیان کے درمیان ابتک پانچ میچز ہوچکے ہیں جن میں چار میں پامر نے کامیابی حاصل کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||