پاکستانیوں کی خراب کارکردگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اوپن اسکواش ٹورنامنٹ میں میزبان کھلاڑیوں کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ ٹورنامنٹ میں شریک نو میں سے آٹھ کھلاڑیوں کے لیے اس ایونٹ کا پہلا میچ ہی آخری ثابت ہوا۔ منصور زمان جنہوں نے اس چیمپئن شپ کے لیے کوچ جمشید گل کے ساتھ انگلینڈ میں کئی ماہ کی ٹریننگ کی تھی پہلے راؤنڈ میں فرانس کے گریگوری گالٹیئر سے شکست کھا گئے۔ دو سال قبل بھی پاکستان اوپن میں گالٹیئر نے منصور زمان کو ہرایا تھا لیکن ان میچوں کے فیصلے پانچ گیمز میں ہوئے تھے لیکن پیر کو گالٹیئر نے تین گیمز میں ہی منصور زمان کو شکست دیدی۔ گریگوری گالٹیئر دوسرے راؤنڈ میں سابق جونیئر عالمی چیمپئن انگلینڈ کے سائمن پارک سے کھیلیں گے جنہوں نے پاکستان کے باسط اشفاق کو پانچ گیمز میں ہرا کر کامیابی حاصل کی۔ انگلینڈ کے ایڈرین گرانٹ نے پاکستان کے یاسر بٹ کو شکست دی۔ یاسر بٹ نے تینوں گیمز میں گرانٹ کا سخت مقابلہ کیا لیکن فیصلہ کن مرحلے پر بازی اپنے نام کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ گرانٹ کا مقابلہ اب سابق عالمی چیمپئن مصر کے امر شبانہ سے ہوگا جنہوں نے یکطرفہ مقابلے کے بعد آسٹریلیا کے ڈین جینسن کو ہرا دیا۔ سابق عالمی چیمپئن آسٹریلیا کے ڈیوڈ پامر نے گزشتہ سال کی طرح اس مرتبہ بھی پہلے راؤنڈ میں پاکستان کے کوالیفائر خیال محمد کو ہرا دیا۔ دوسرے راؤنڈ میں پامر کا مقابلہ مصری وائل الہندی سے ہوگا جنہوں نے ہم وطن محمد عباس کو شکست دی۔ دفاعی چیمپئن انگلینڈ کے جیمز ولسٹروپ نے وائلڈ کارڈ انٹری کی بدولت پاکستان اوپن کھیلنے والےچودہ سالہ عامراطلس کی ناتجربہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ دوسرے راؤنڈ میں ان کے حریف آسٹریلوی جوزف کنائپ ہونگے جنہوں نے پہلے دو گیمز ہارنے کے باوجود بقیہ تین گیمز میں فرانس کے رینن لیون کو ہرادیا۔ پاکستان اوپن میں پاکستان کی آخری امید شاہد زمان سے وابستہ رہ گئی ہے جو دوسرے راؤنڈ میں عالمی نمبرایک اور عالمی چیمپئن تھیری لنکو کے مقابل ہونگے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||