پاکستان اوپن: دفاعی چیمپئن کو شکست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اوپن اسکواش چیمپئن شپ سیمی فائنل مرحلے میں داخل ہوگئی ہے لیکن دفاعی چیمپئن انگلینڈ کے جیمز ولسٹروپ اس میں شامل نہیں ہیں انہیں کوارٹرفائنل میں آسٹریلیا کے ڈیوڈ پامر نے شکست دیدی تھی۔ تین بار کے برٹش اوپن چیمپئن اور 2002ء کے ورلڈ چیمپئن ڈیوڈ پامر نے اپنے تجربے کی بدولت نوجوان ولسٹروپ کو تین گیمز میں زیرکیا۔ سیمی فائنل میں پامر کا مقابلہ فرانس کے گریگوری گالٹیئر سے ہوگا جنہوں نے سابق عالمی چیمپئن امرشبانا کو تین گیمز میں ہرادیا۔ امرشبانا پٹھ کھنچ جانے کے سبب اپنا اصل کھیل پیش کرنے سے قاصر رہے۔ عالمی نمبر ایک فرانس کے تھیری لنکو سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے انتھونی رکٹس کے مقابل ہونگے جو انہیں اس سال ٹورنامنٹ آف چیمپئنز کے فائنل میں شکست دے چکے ہیں۔ کوارٹرفائنل میں لنکو نے جو اس سال ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں جیت سکے ہیں کریم درویش کے خلاف اعتماد سے کھیلتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ پہلے دو گیمز میں2000ء کے جونیئر ورلڈ چیمپئن درویش نے موجودہ عالمی چیمپئن کا سخت مقابلہ کیا لیکن ٹائی بریکر پر دونوں مرتبہ لنکو نتیجہ اپنے حق میں کرنے میں کامیاب رہے۔ تیسرے گیم میں بھی لنکو نے فیصلہ کن گھڑی میں حواس قابو میں رکھتے ہوئے میچ کو اپنے حق میں ختم کیا۔ لنکو کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اوپن جیتنے کے لئے پرعزم ہیں لیکن اس وقت اسکواش کا معیار بہت بلند ہے اور کسی بھی کھلاڑی کی کامیابی کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ انتھونی رکٹس ریفری کے شکرگزار تھے جنہوں نے پانچویں اور فیصلہ کن گیم کے فیصلہ کن مرحلے میں انگلینڈ کے نک میتھیو کے حق میں دو فیصلے نہیں دیے جو مبصرین اور شائقین کے خیال میں تھے اس واضح غلطی نے میتھیو کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے بجائے چیمپئن شپ سے ہی باہر کردیا۔ دفاعی چیمپئن ولسٹروپ کی شکست کے بعد اب پاکستان اوپن میں اس مرتبہ بھی نیا چیمپئن سامنے آئے گا۔ جہانگیرخان اور جان شیر کی مجموعی طور پر سولہ کامیابیوں کے بعد1998 میں امجد خان فاتح بنے لیکن اگلے سال فائنل میں انہیں انگلینڈ کے پیٹرمارشل نے ہرادیا۔2002ء میں جوناتھن پاور چیمپئن بنے اور گزشتہ سال ولسٹروپ کے حصے میں پاکستان اوپن کا اعزاز آیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||