BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 May, 2005, 09:47 GMT 14:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اختلافات میانداد کو لے بیٹھے

جاوید میانداد
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ثقافت اور کھیل محمد اجمل خان نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ جاوید میانداد کو پہلی بار سینیئر کھلاڑیوں سے اختلافات اور دوسری بار بھارت سے ٹیم کے ہار جانے کی وجہ قبل از وقت اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے سرکاری طور پر جاوید میانداد کو عہدے سے ہٹائے جانے کی وجوہات کسی سرکاری فورم پر پیش کی ہیں۔

وزیر کے مطابق مئی سن دو ہزار میں جاوید میانداد کو کوچ مقرر کیا گیا اور ایک سال بعد نیوزی لینڈ کے دورے کے وقت ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں سے ان کے اختلاف پیدا ہوئے اور کئی کوششوں کے باوجود جب اختلافات دور نہیں ہوئے تو کوچ کو مستعفی ہونا پڑا۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے پانچ کوچ تبدیل ہوئے جولائی سن دو ہزار چار میں مقرر ہونے والے باب وولمر ٹیم کے چھٹے کوچ بنے۔

محمد اجمل خان نے خاتون رکن قومی اسمبلی یاسمین رحمٰن کے سوال پر ایوان میں پیش کردہ تحریری معلومات میں بتایا ہے کہ جاوید میانداد کے بعد رچرڈ پائی بس چار ماہ کے لیے کوچ بنے اور بعد میں عمران خان کی سفارش پر مدثر نذر کو کوچ بنایا گیا۔

حکومتی معلومات کے مطابق مدثر نذر ایک سال کوچ رہے لیکن جب پاکستان کی ٹیم سری لنکا میں ’ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی‘ ہار گئی تو کوچ کو ہٹا دیا گیا۔ جس کے بعد دوبارہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے رچرڈ پائی بس کو کوچ مقرر کیا گیا۔

پائی بس اس بار ایک سال کوچ رہے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ سینیئر کھلاڑی سیکھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔

وزیرِ کھیل محمد اجمل خان کے مطابق سن دوہزار تین میں ہونے والے عالمی کرکٹ کپ میں پاکستانی ٹیم کی غیر معیاری کارکردگی کے بعد دوبارہ جاوید میانداد کو اسی سال اپریل میں کوچ مقرر کیا گیا۔

جاوید میانداد نے اس بار کپتان راشد لطیف کے ہمراہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل اچھی ٹیم بنائی اور بیشتر میچ بھی جیتے۔ لیکن جاوید میانداد اس بار بھی چودہ ماہ سے زیادہ عرصے تک اس عہدے پر نہیں ٹک سکے اور بھارت سے پاکستانی ٹیم کے ہارنے کے بعد میانداد کی جگہ باب وولمر نے لے لی۔

واضح رہے کہ دوسری بار جاوید میانداد کو کوچ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بھی ٹیم کے انعامات اور دیگر مالی فوائد انہیں اس وقت تک ملتے رہے جب تک ان سے معاہدے کی مدت طے کی گئی تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے چونسٹھ ایک روزہ میچ کھیلے جس میں سے سینتیس جیتے اور باقی میچ ہار گئی۔ اس عرصہ میں پاکستان کے میچ جیتنے کی شرح اٹھاون فیصد رہی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد