میانداد رہنمائی کریں: وولمر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ باب وولمر نے برخاست شدہ کوچ جاوید میانداد کو دعوت کی ہے کہ وہ ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ان کی رہنمائی کریں۔ بی بی سی سپورٹس آن لائن سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ جاوید میانداد اس مرحلے پر کافی ناخوش ہوں گے لیکن میری خواہش ہے کہ میں ان سے رہنمائی حاصل کروں۔ باب وولمر کے مطابق حالیہ مایوس کن کارکردگی کے باوجود ٹیم کو ناقابل اصلاح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ٹیم کے امیج کو بہتر بنایا جائے اور سابق کوچوں اور ناقدین سمیت تمام پاکستانیوں کو ٹیم کا ہمنوا بنایا جائے۔ ’ہمیں اس بات کو بھولنا ہوگا کہ ماضی میں کیا ہوا۔ بلکہ اس سے سبق سیکھ کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کا اعادہ نہ ہو۔‘ ٹیم کے معاملات میں پی سی بی کی مداخلت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ٹیم کے معاملات میں بورڈ کے حکام سے مشاورت کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ ’میرے خیال میں کوچ کو کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ بورڈ کے ارکان کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہیے تاکہ ٹیم سے متعلق ہر فرد کو معلوم ہو کہ دوسرا کیا کر رہا ہے۔‘ ’تاہم میرے خیال میں کوچ کی رائے کو اس سلسلے میں سب پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں باب وولمر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے ان کی بات چیت بہت دنوں سے چل رہی تھی۔ ’بورڈ کو اس بات سے دلچسپی تھی کہ میرے خیال میں کوچ کو کیسا ہونا چاہیے اور اسے کیا کرنا چاہیے۔‘ باب وولمر کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں بورڈ کو ایک مختصر سی بریفنگ بھی دی جس کو سامنے رکھتے ہوئے مجھے کوچ کی نوکری کی پیش کش کی گئی۔ ایک اور سوال کے جواب میں باب وولمر نےبتایا کہ وہ ڈاکٹر ٹم نوکس کے ساتھ مل کر کوچنگ پر ایک مفصل کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی کوچنگ شروع کرنے سے پہلے وہ بیس تیس ممکنہ کھلاڑیوں کے ساتھ مل بیٹھیں گے اور ان سے بات چیت چیت کریں گے۔ ’میں کوئی ایسی چیز نہیں کرنا چاہوں گا جس سے دیگر متعلقہ لوگ متفق نہ ہوں۔ میری کوشش یہ ہوگی کہ ایک ایسا ڈھانچہ سامنے لایا جائے جس سے ان کھلاڑیوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں جنہوں نے میدان میں اترنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||