BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 April, 2005, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت دوستی اور پریشر

پاک بھارت کرکٹ فینز
یہ نئی اور نازک دوستی ذرا سے پریشر میں ہی یہ بکھرنے لگتی ہے
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی نئی بھی ہے اور نازک بھی اور ذرا سے پریشر میں ہی یہ بکھرنے لگتی ہے۔

کانپور میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک روزہ میچ میں اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے خاصی تعداد میں پاکستانی شائقین گرین پارک میں موجود تھے۔ میچ کا آغاز کافی سنسنی خیز رہا اور جب نوید الحسن نے سہواگ کو بولڈ کیا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھے۔

اور خوشی سے جھومتے ہوئے انہوں نے پہلے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور پھر نعرہ تکبیر کی صدا بلند کی۔لیکن جب جواب میں ہزاوں ہندوستانی شائقین نے پاکستان مردہ باد کے نعروں لگانے شروع کیے تو جلدی ہی انہیں احساس ہوگیا کہ سکون سے میچ دیکھنے میں ہی عافیت ہے۔

کانپور میں سابق کپتان ظہیر عباس اور پاکستان ریڈیو کے کمینٹریٹر مرزا اقبال کی بھی سسرال ہے۔ کانپور میں شادی کرنا تو ایسی کوئی بڑی کامیابی نہیں، لیکن مرزا اقبال نے ایک دلچسپ بات بتائی جس کا ذکر ضروری ہے۔

انیس سو چھیانوے میں شاہد آفریدی نے کینیا میں جس بیٹ سے سری لنکا کے خلاف صرف سینتیس بالز میں تاریخ کی سب سے تیز سنچری بنائی تھی، وہ سچن تندولکر کا تھا۔

یوں تو دونووں ٹیموں کے ڈریسنگ روم ہمیشہ الگ ہوتے ہیں، لیکن اس دن ٹیمیں ایک ہی ڈریسنگ روم استعمال کر رہی تھیں۔ آفریدی نے غلط فہمی میں بیٹ اٹھایا اور چند ہی لمحوں میں سنچری جما دی۔

بعد میں تندولکر نے انہیں وہ بیٹ تحفےمیں دیدیا۔ تو کیا یہ کہانی بالکل درست ہے؟ مجھے نہیں معلوم لیکن کرکٹ کے میدان پر ہند پاک شراکت کا مرکزی خیال بہت اچھا ہے۔

جب بات ہند پاک شراکت کی ہو تو ظہیر عباس کی سسرال کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ لمبے عرصے سے دونوں ملکوں کو رشتہ ازدواج کے ذریعہ قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے پچیس سال پہلے ایک ہندو لڑکی سے شادی کی تھی۔ ان کی اہلیہ ریٹا لوتھر نے بعد میں اپنا نام بدل کر ثمینہ رکھ لیا اور اپنی بیٹی سونیا کی شادی واپس ہندوستان میں کردی۔

ماں بیٹی دونوں انٹیرئیر ڈیزائنر ہیں اور شاید دونوں ملکوں کو اندر سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ظہیر کا ڈائیلاگ تھوڑا فلمی لیکن اچھا ہے۔

’پہلے میں نے ایک ہندوستانی سے شادی کی اور آج میری بیٹی ہندوستان کی بہو ہے۔ اس طرح اگر دو خاندان مل سکتے ہیں، تو دونوں ملک بھی ایک ہوسکتے ہیں، بس پہل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

شاید صدر مشرف، جو خود ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، ایسی ہی پہل کرنے دلی آرہے ہیں۔

کانپور سے پاکستانی ٹیم کے رشتوں کا ذکر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ٹیم کے کوچ باب وولمر ستاون برس پہلے اسی شہر کے ایک اسپتال میں پیدا ہوئے تھے۔

جس کمرے میں انہوں نے پہلی مرتبہ آنکھ کھولی تھی، وہ اب ایک آپریشن تھیٹر ہے جس کا نام وولمر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

یہ تو ہوئی پیار محبت اور رشتوں کی بات، لیکن جیسا میں نے پہلے کہا دوستی نئی بھی ہے اور نازک بھی۔ کانپور شہر بھی مذہبی تشدد کے تعلق سے کافی حساس ہے اور یہاں سڑکووں اور بازاروں میں ٹی وی پر میچ دیکھنے یا دکھانے تک پر پابندی عائد ہے۔

انضمام الحق کہتے ہیں کہ کرکٹ سے بڑھیا سی بی ایم ( اعتماد بڑھانے کے اقدام) کوئی نہیں اور موجودہ سیریز کوئی ہارے کوئی جیتے، ہم لاکھوں لوگوں کے دل ضرور جیت لیں گے۔

میں اس بات کو جب سچ مانوں گا جب ہندوستان میدانوں پر انضمام کے اترتے وقت’ آلو‘ نہیں ’انضی‘ کی آواز بلند ہوگی اور پاکستان زندہ باد کا جواب پاکستان مردہ باد سے نہیں ہندوستان زندہ باد سے دیا جائے گا ۔

کیونکہ میں نےبہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ دونوں ملکوں کو ساتھ رہنا ہوگا اور امن سے رہنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد