BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 April, 2005, 20:05 GMT 01:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمشید پور میں پشاوری کھانے

انضمام الحق
شاہد آفریدی کو کباب پسند ہیں لیکن اتنے نرم کہ انہیں چبانا نہ پڑے۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ اپنی دھواں دار بیٹنگ کے لیے دنیا بھر میں مشہور پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کو بکرے کے کباب بہت پسند ہیں لیکن ” اتنے نرم کہ منہ میں جائیں اور گھل جائیں”۔

یا یہ کہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک لیکن رن آؤٹ ہونے کے لیے بدنام کپتان انضمام الحق چکن کے کباب کے دیوانے ہیں۔

” مرغ ملائی کباب اور ریشمی کباب انہیں بہت پسند ہیں اور جب بھی آتے ہیں بس بہی بولتے ہیں کہ مجھے ملائی کھلاؤ اور ریشمی (کباب) کھلاؤ"

جمشیدپور یوں تو چھوٹا سا شہر ہے لیکن یہاں جس ہوٹل میں پاکستانی ٹیم ٹھہری ہوئی ہے، اس کے مہمان نوازی کے آداب نرالے اور انداز شاہی ہیں۔

پاکستانی مہمانوں کو خوش وخرم رکھنے کے لیے خصوصی طور پر کلکتہ سےایک خانصامہ طلب کیا گیا ہے جو صوبہ سرحد کے مخصوص کھانے بنانےکا ماہر ہے۔

ساتھ میں حکومت کا پروٹوکول جوڑ دیجئے تو کھلاڑیوں کے راجسی ٹھاٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔ یعنی ہوٹل میں پانچ سرکاری اہلکار تعینات ہیں جو کھلاڑیوں کے حضور میں پیش کی جانے والی کھانےکی ہر چیز کو پہلے چکھ کر دیکھتے ہیں۔

میں نے ہوٹل میں جاکر جب پیشاوری خانصامہ گوتم سے ملاقات کی تو ان سوپر اسٹار پاکستانی کھلاڑیوں کی ایک الگ ہی تصویر ابھر کر آئی۔

انہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں، کس طرح کے کھانے انہیں زیادہ عزیز ہیں اور ہوٹل کے عملے کے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہے۔

گوتم اس امید کے ساتھ یہاں آئے تھے کہ ان کی بنائی ہوئِے صوبہ سرحد کی ڈشز پاکستانی کھلاڑیوں کو” بہت پسند آئیں گی اور انہیں اپنے وطن کی یاد دلائیں گی "

میں نے پوچھا کہ کھلاڑی کس قسم کے کھانے زیادہ پسند کرتے ہیں تو گوتم نے سب سے پہلے شاہد آفریدی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ” انہیں چبانا نہیں ہے، بس وہ چاہتے ہیں کہ کباب منہہ میں جائے اور گھل جائے۔ تو اس کے لیے ہمارے پاس دو ویرائٹی ہیں مٹن کے کباب کی۔ برا کباب اور پیشاوری کباب۔ یہ ایسے خاص کباب ہیں جن کو اگر آپنے اچھے سے پکایا ہے تو پھر چبانے کی ضرورت نہیں۔"
میں نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاہد اچھا کھانا تو کھانا چاہتے ہیں لیکن محنت نہیں کرنا چاہتے، تو گوتم نے فوراً اپنے پسندیدہ کھلاڑی کادفاع کرتے ہوئے کہا کہ نہیں وہ محنت تو کرنا چاہتے ہیں لیکن پورا ضائقہ بھی لینا چاہتے ہیں۔ بس جیسا ان کے وطن میں ملتا ہے ویسا یہاں مل جائے"

تو آخر ان کھلاڑیوں کا گوتم اور ان کے عملے کے ساتھ کیسا رویہ رہتا ہے۔
”بہت اچھا رویہ ہے، ان سے جب میں بات کرتا ہوں تو مجھ کو لگتا نہیں کہ یہ اتنے ہائی کلاس اے گریڈ کے لوگ ہیں جنہیں زیڈ کلاس ( ہندوستان میں سب سے سخت سکیورٹی کا گریڈ) سکیورٹی دی گئی ہے۔ میرے لئے تو یہ بالکل عام آدمیوں کی طرح ہیں، میری کوچ اور مینجر سمیت سبھی سے بات ہوچکی ہے لیکن ان میں کوئی بناوٹ نہیں۔ بات کرنے سے لگتا ہےکہ جیسے یہ پڑوس کے ہی لڑکے ہوں"

ہوٹل میں پانچ سرکاری اہلکار بھی چوبیسوں گھنٹے موجود رہتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ کھلاڑیوں تک پہنچنے سے قبل کھانے کی ہر چیز کھا کر دیکھیں کہ کہیں اس سے مہمانوں کی صحت کو کوئی نقصان نہ ہوجائے۔
ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر الوک مہتو ہیں۔
"ہمارا کام بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہے کہ کھانا پوری صفائی سے بنایا گیا ہےکہ نہیں۔ خاص توجہ سلاد پر دی جاتی ہے کیونکہ اسے پکایا نہیں جاتا۔ اور ہم ہر کھانے کا نمونہ ضرور رکھتے ہیں تاکہ اگر کوئی بات ہو، تو بعد میں اس کی جانچ کی جا سکے۔"

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد