BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 April, 2005, 16:33 GMT 21:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان ٹیم میں تبدیلیاں کرے گا

آفریدی
پاکستان دوسرے ون ڈے میچ میں شاہد آفریدی سے اوپننگ کروائے گا۔
ایک روزہ میچوں کی سیریز میں ایک صفر سے پچھڑنے کے بعد پاکستانی ٹیم کل کے میچ کے لیے بیٹنگ آرڈر میں کچھ تبدیلیاں کرے گی۔

امکان ہے کہ شاہد آفریدی وکٹ کیپر کامران اکمل کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے اور نائب کپتان یونس خان کی ٹیم میں واپسی ہوگی۔

لیکن خود یونس خان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ رات کو ٹیم کی اس میٹنگ میں کیا جائے گا جس میں میچ کے لیے حکمت عملی وضع کی جاتی ہے۔

کوچی کی طرح یہاں بھی بلا کی گرمی ہے اور رطوبت کا تناست بہت زیادہ ہو نے کی وجہ سے دھوپ میں نکلنا دشوار ہے۔ اسی لیے دونوں ٹیموں نے آج واضح کیا کہ ٹاس جینتے کی صورت میں وہ پہلے بیٹنگ کرنا پسند کریں گی تاکہ حریف ٹیم سے پہلے فیلڈنگ کراکر گرمی کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔

آج دونوں ٹیموں نے اپنے اسٹار کھلاڑیوں کو دھوپ سے بچانے کی کوشش کی اور انہیں نیٹ پریکٹس سے مستثنیٰ رکھا۔ باقی کھلاڑیوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا اور میں نے پہلی مرتبہ کسی میدان کے درمیان میں شامیانے لگے ہوئے دیکھے۔

آج دونوں ٹیموں کے نائب کپتانوں نے صحافیوں سے بات چیت کی۔ راہل ڈراوڈ نے تو زیادہ تر سوالوں کا گول مول جواب دیا لیکن یونس خان سے جب پوچھا گیا کہ کیا شبیر، عمر گل یا شعیب باقی میچوں کے لیے ٹیم میں شامل کئے جاسکتے ہیں، تو انہوں نے اس امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔

"یہ کوئی کلب کی ٹیم تو ہے نہیں کہ ایک میچ ہارے گئے تو اس کو بلا لو اس کو بلا لو، ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟"

کوچی کی ہی طرح وشاکھاپٹنم کی وکٹ بھی بیٹنگ لئے سازگار بتائی جار رہی ہے اور میدان کے کیوریٹر کے مطابق کل کا میچ بھی ہائی اسکورنگ ہونا چاہیے۔
انڈین ٹیم میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں ہے جس کی وجہ سے فاسٹ بالر عرفان پٹھان کو لگاتار دوسرے میچ میں باہر بیٹھنا پڑے گا۔

عرفان پاکستان کے ِخلاف گزشتہ برس کی سیریز کے ہیرو بن کر ابھرے تھےلیکن گزشتہ کچھ عرصے سے آؤٹ آف فارم ہیں۔ ڈراوڈ کے مطابق فاسٹ بولنگ کی ذمہ داری ظہیر خان اور بالاجی کے کندھوں پر ہی رہے گی جبکہ ماہر اسپنر کے طور پر ہر بھجن سنگھ ٹیم میں شامل رہیں گے۔ یعنی مرلی کارتک بھی آرام سے پویلین میں بیٹھیں گے۔

پہلے میچ میں پاکستان کی بولنگ کی یہ کہہ کر نکتہ چینی کی گئی تھی کہ دو آف اسپنرز ( ارشد ِخان اور محمد حفیظ) کو کھلانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور یہ کہ دانش کنیریا کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے، لیکن یونس کی باتوں سے ایسا تاثر ملا کہ دانش کل بھی اپنی لیگ اسپن کے جوہر نہیں دکھا پائیں گے۔ یونس کا کہنا تھا کہ حفیظ ٹیم کے مستقل ممبر ہیں اور ارشد نے پچھلے میچ میں چار وکٹ لئے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ٹاس ایک مرتبہ پھر فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ بہر حال پاکستانی کو ایک روزہ میچوں میں ہندوستان سے کہیں زیادہ مضبوط ٹیم مانا جارہا ہے اور دن رات کرکٹ پر لکھنے والے صحافی ابھی سے پاکستان کو چار کے مقابلے میں دو میچ سے جتا رہے ہیں۔

قیاس آرائیوں سے قطع نظر، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کل کا میچ پاکستان کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور لگاتار دو میچ ہارنے کی صورت میں سیریز میں اس کی واپسی تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔

کل کے میچ کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں اور ٹکٹ کافی دن پہلے سے فروخت ہو چکے ہیں۔

وشاکھاپٹنم کا نیا اسٹیڈیم کافی خوبصورت لیکن چھوٹا ہے اور اس میں تیس ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ لیکن مقامی انتظامیہ نے صرف ستائیس ہزار ٹکت فروحت کئے ہیں۔

اسٹیڈیم شہر سے ذرا باہر ہے اور لوگوں کو پہنچانے کے لئے دو سو بسو کا انتظام کیا گیا ہے۔ میچ مقامی وقت ک مطابق صبح نو بجے شروع ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد