BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 March, 2005, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی ٹیم دباؤ کا شکار ہوئی‘
انیس سو ستاسی کے میچ میں اقبال قاسم اور توصیف نے نو نو وکٹیں حاصل کی تھیں
انیس سو ستاسی کے میچ میں اقبال قاسم اور توصیف نے نو نو وکٹیں حاصل کی تھیں
پاکستان کے سابق سپنر اقبال قاسم نے کہا ہے کہ انیس سو ستاسی میں پاکستان نے بنگلور کی جس وکٹ پر بھارت کو شکست دی تھی وہ زیادہ خطرناک وکٹ تھی جبکہ موجودہ وکٹ ایک ’سپورٹنگ‘ یا بلے بازوں کی مدد گار وکٹ تھی۔

بی بی سی اردو سروس سے انٹرویو میں انہوں نے موجودہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بنگلور کے ٹیسٹ میچ میں پاکستان ایک واضح حکمت عملی سے کھیلا اور بھارت کو دباؤ کا شکار کرنے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سیریز میں ایک میچ ہار چکا تھا اور اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا سوائے اس کے وہ اس میچ میں اپنا پورا زور لگا دے اور سیریز برابر کرنے کی کوشش کرئے۔

اقبال قاسم نے کہا اس حکمت عملی کے پیش نظر پاکستان نے ارشد خان کو ٹیم میں شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ صاف ظاہر تھا کہ پاکستان ٹاس جتنے کہ بعد بھارت کے خلاف ایک بڑا ہدف قائم کرنے کی کوشش کرئے گا اور پھر بھارت کو جلدی آؤٹ کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا۔

انیس سو ستاسی کے میچ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت میچ شروع ہونے سے قبل وکٹ پر گھاس تھی اور اسی لیے پاکستان نے تیز رفتار بالر سلیم جعفر کو ٹیم میں شامل کیا۔

انہوں نے کہا کہ سلیم جعفر کو پورے ٹیسٹ میچ میں بالنگ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اقبال قاسم نے کہا کہ اس میچ میں بہت کم سکور ہوا تھا اور پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف ایک سو سولہ رن بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ میچ کے پہلے دن منندر سنگھ نے پاکستان کے سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور پہلے ہی دن بھارت بیٹنگ کرنے آگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو ستاسی میں پاکستان کی حکمت عملی مکمل طور پر الٹ ہوگئی تھی اور اس میچ کو لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال کے تحت کھیلا گیا۔

اقبال قاسم نے اِس ٹیسٹ میچ میں سہواگ کے رن آٰؤٹ کو میچ میں فیصلہ کن موڑ قرار دیا اور کہا کہ ان کے رن آؤٹ ہونے کے بعد بھارتی ٹیم مکمل طور پر دباؤ کا شکار ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ 383 کا ہدف ایک مناسب ہدف تھا تاہم اگر بھارتی کھلاڑی دباؤ میں نہ آتے تو یہ ’پریشر‘ یا دباؤ پاکستان پر بھی منتقل ہو سکتا تھا۔

انیس سو ستاسی کے میچ میں شریک بھارتی ٹیم اور موجودہ بھارتی ٹیم کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس دور میں گواسکر، ونگسارکر، اظہر الدین اور روی شاستری جیسے مائہ ناز کھلاڑی ٹیم میں موجود تھے اور آج بھی بھارتی ٹیم میں دنیا کے نامور کھلاڑی سہواگ، ڈراوڈ، لکشمن اور سچن تندولکر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ’لواسکورنگ‘ یا کم سکور والا میچ ہمیشہ ہی دونوں ٹیموں کے لیے دباؤ کا باعث ہوتا ہے۔

پاکستان کی موجود فتح پر مزید اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت سہواگ اور ڈراوڈ پر انحصار کرتی ہے لیکن آج ہو اپنا کرداد ادا نہیں کر سکے اور ٹیم مشکلات کا شکار ہوتی چلی گئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد