یہ سفر آسان نہیں رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بات بڑی عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ کسی سے یہ پوچھا جائے کہ انضمام الحق کا پاکستان کرکٹ میں کیا مقام اور کیا خدمات ہیں۔ شاید ہی کوئی سابق کرکٹر تجزیہ نگار یا شائق ایسا ہو جو انضمام الحق کے بارے میں حقیقت پسندی سے رائے نہ دے۔ان کی بیٹنگ، ریکارڈز اور اعدادوشمار کسی بھی پیمانے پر پرکھا جائے وہ اس وقت عصر حاضر کے کسی بھی بڑے کرکٹر سے پیچھے نہیں ہیں۔ پاکستان کرکٹ کی بنیاد اگر حنیف محمد کی بیٹنگ سے رکھی گئی اور اسے جاوید میانداد نے مستحکم کیا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انضمام الحق نے اسے دوام بخشا ہے۔ بیٹنگ میں انضمام الحق کا اپنا انداز ہے وہ ان بیٹسمینوں میں شامل ہیں جو کریز پر آتے ہی اعتماد کا پیکر بن جاتے ہیں انہیں وکٹ اور بولر کے مزاج کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی اور نہ ہی وہ اننگز کی ابتدا میں تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔ ملتان کا گرم موسم بھی انضمام الحق کے مزاج کو نہیں جھلسا سکا ہے۔ بیٹنگ میں وہ کبھی کسی بولر کے تیز باؤنسر سے خائف ہوئے ہیں اور نہ اس کے مشتعل کرنے والے فقروں سے پریشان۔ ورلڈ کپ 92 کو پاکستان کرکٹ کا نقطہ عروج کہا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ کا یہ یادگار باب بائیس سالہ نوجوان انضمام الحق کی شاندار کارکردگی کے تذکرے سے مزین ہے۔ لیکن کرکٹ کی اگر بے اعتباری دیکھنی ہے تو2003 کے ورلڈ کپ کو کون بھول سکتا ہے خود انضمام الحق بھی نہیں۔ جو کہتے ہیں کہ اگر1992 کے ورلڈ کپ نے انہیں کرکٹ میں شناخت دی اور شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا تو2003 کا ورلڈ کپ ان کے لئے بھیانک خواب ثابت ہوا۔ جس کے چھ میچوں میں وہ محض انیس رنز بنا سکے تھے اور ان کے کریئر پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ سفر ان کے لئے آسان نہیں رہا۔ اس میں بڑے نشیبب و فراز آئے ہیں۔ انضمام الحق کی یہ ِخوبی ہے کہ وہ مشکل سے مشکل صورتحال میں حوصلہ رکھتے ہوئے اس سے نمٹنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جب بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں راشد لطیف انہیں ٹیم میں واپس لائے تھے تو پہاڑ جیسا پریشر ان پر تھا۔ اپنے ہوم گراؤنڈ ملتان میں پاکستان کی شکست کو ان کی ناقابل شکست سنچری نے ایک وکٹ کی انتہائی قیمتی جیت میں تبدیل کردیا۔
ایسی اننگز صرف ورلڈ کلاس بیٹسمین ہی کھیل سکتے ہیں جنہیں خود پر بھروسہ ہو۔ اس طرح کی ایک اورشاندار کارکردگی انضمام الحق نے95-1994 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں دکھائی تھی جس میں انہوں نے کسی بھی طور سنچری کے برابر نصف سنچری بناکر پاکستان کو ڈرامائی انداز میں ایک وکٹ سے کامیابی دلا دی تھی۔ انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر ٹیسٹ میں دونوں اننگز میں114اور85 رنز کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کی جیت کی بنیاد رکھی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں ان کی ٹرپل سنچری ہو یا سری لنکا کےخلاف ڈھاکہ ٹیسٹ میں ڈبل سنچری خوبصورت بیٹنگ کا نمونہ کہی جا سکتی ہیں۔ بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں بحیثیت کپتان وہ کامیاب نہ رہے لیکن مشکل حالات میں دو ون ڈے سنچریاں اور لاہور ٹیسٹ میں سنچری ان کے ورلڈ کلاس بیٹسمین ہونے کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ انضمام الحق نے ٹیسٹ کرکٹ میں20 سنچریاں بنائی ہیں جن میں سے14 سنچریاں ان میچوں میں ہیں جو پاکستان نے جیتے ہیں۔ کپتان کی حیثیت سے بارہ ٹیسٹ میچوں میں چالیس کی اوسط سے آٹھ سو سے زائد رنز جس میں دو سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ اطمینان بخش کارکردگی کہی جاسکتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ جس ٹیم کے کپتان ہیں وہ کھلاڑیوں کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کی وجہ سے مشکل سے دوچار رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سینئر ترین کھلاڑی اور کپتان ہونے کے ناطے تمام تر بوجھ انضمام الحق کو سہنا پڑتا ہے جسے وہ بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام دیتے ہیں۔ انضمام الحق اسوقت اسٹیو وا اور وسیم اکرم کے بعد سب سے زیادہ ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے کرکٹر ہیں۔ وہ سچن تندولکر کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی ہیں۔ انضمام الحق دو سال بعد ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ کپ تک کھیلنے کے خواہش مند ہیں۔ان کی موجودہ فارم کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے کریئر کے عروج پر ہیں جن کی دفاع اورجارحانہ امتزاج کی حامل بیٹنگ دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||