’ ہماری سوچ مثبت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کو اس بات پر تشویش نہیں ہے کہ بھارت کے خلاف سیریز ہارنے کی صورت میں ان کی کپتانی چھین جائے گی۔ وہ مثبت سوچ کے ساتھ بنگلور ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سوویں ٹیسٹ کو بھی یادگار بنانا چاہتے ہیں۔ میچ سے قبل پرہجوم پریس کانفرنس میں جب انضمام الحق سے سوال کیا گیا کہ سیریز ہارنے کی صورت میں کپتانی سے محرومی پر تشویش تو لاحق نہیں ہے؟ تو بذلہ سنجی کے لئے مشہور انضمام الحق کہنے لگے کہ ایسا ہر سیریز میں محسوس ہوتا ہے کہ سیریز ہارے تو کپتانی بھی چلی جائے گی لیکن وہ اسوقت سوویں ٹیسٹ کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو ایک بار ہی آتا ہے۔ انضمام الحق کو بنگلور ٹیسٹ کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے وہ کہتے ہیں کہ سیریز برابر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مثبت اور جارحانہ سوچ کے ساتھ کرکٹ کھیلی جائے کیونکہ سیریز کی برابری کا یہی ایک موقع ہے۔ پاکستانی کپتان کو افسوس ہے کہ بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے سبب وہ کولکتہ ٹیسٹ پر اپنی مضبوط گرفت کمزور کر بیٹھے اور میچ ہارگئے۔ انضمام الحق کو اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ کولکتہ ٹیسٹ جیتنے کے بعد بھارتی ٹیم بنگلور ٹیسٹ ڈرا کے لئے کھیل سکتی ہے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ جو بھی ٹیم ٹاس جیتے گی وہ پہلے بیٹنگ کرے گی۔ ہربھجن سنگھ کے بولنگ ایکشن کے بارے میں سوال پر محتاط رویہ اخِتیار کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ یہ آئی سی سی کا فیصلہ ہے جس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کو اصل نقصان ہربھجن سے زیادہ کمبلے نے پہنچایا۔
بھارتی ٹیم کے لئے بھی بنگلور ٹیسٹ اس لئے اہم ہے کہ ایک اور جیت اسے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ رینکنگ میں آسٹریلیا کے بعد دوسرے نمبر پر کردے گی جس پر بھارتی کپتان سوروگنگولی کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جیت کی سوچ کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ان کے خیال میں چناسوامی اسٹیڈیم کی وکٹ اسپنرز کی مدد کرے گی۔ گنگولی اپنے کوچ جان رائٹ کو جو اس سیریز کے بعد بھارتی ٹیم کو خیرباد کہہ کر جا رہے ہیں۔ زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ پانچ سال اچھے گزرے۔ انضمام الحق کے سوویں ٹیسٹ پر وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک عظیم کرکٹر ہیں ان کے اعداد وشمار ان کی عظمت کی گواہی دے رہے ہیں۔ گنگولی آئی سی سی میچ ریفری کرس براڈ کی جانب سے ہربھجن سنگھ کے بولنگ ایکشن کی دوبارہ رپورٹ کئے جانے پر خوش نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل آئی سی سی نے ہی انہیں کلیئر کردیا تھا اب دوبارہ ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض سمجھ سے باہر ہے۔ گنگولی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو اس معاملے کو مستقل بنیادوں پر حل کرلینا چاہئے کیونکہ یہ ہربھجن سنگھ کے کریئر کا سوال ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||