اشعر رحمان لاہور |  |
 |  پاکستان کرکٹ ٹیم اچھا کھیلتے کھیلتے دھڑام سے گر جاتی ہے |
ہم سب اتوار کو چھٹی کرتے ہیں، آپ اتوار کو چھٹی کرتے ہیں، میں اتوار کو چھٹی کرتا ہوں۔۔۔ اور سب پاکستانی کھلاڑی بھی اتوار کو چھٹی کرتے ہیں۔ بہت بار ایسا ہوا ہے کہ ہماری ٹیم اچھا کھیلتے کھیلتے اتوار کو اچانک دھڑام سے زمین پر آ گری۔ کولکتہ میں ایک بار پھر ایسا ہی ہوا۔ یہ کہنا شاید مشکل ہے کہ پاکستانی کھلاڑی اس وقت تک بہت اچھا کھیل رہے تھے۔ نو وکٹ باقی تھے اور صرف ایک دن کا کھیل۔ مگر پہلی گیند سے ہی ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی چھٹی پر ہیں۔ یونس خان کچھ جلدی میں تھے۔ ایک گیند کے لیے میدان میں اترے اور پھر سارا دن فارغ۔ انزی بھی کوئی زیادہ موڈ میں نہیں تھے اور یوحنا تو لگتا تھا کہ پچھلی اننگز کی تھکان سے نڈھال تھے۔ بہت ہوتا ہے ایک اننگز میں سو سکور کرنا۔ عاصم کمال نے تھوڑی محنت کی مگر دوسری طرف سے سپورٹ نہ ہونے کے سبب وہ بے بس نظر آ رہے تھے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستانی کی یہ اتوار کی چھٹی ان کے روایت پسند ہونے کا ثبوت ہے یا ان کے پروفیشنل ہونے کا۔ ایک زمانا تھا جب اتوار کے دن ٹیسٹ میچ میں چھٹی ہوا کرتی تھی۔ جمعرات کو کھیل شروع ہوتا تھا اور ہفتے کے دن تک چلتا تھا۔ اتوار کی چھٹی کے بعد پیر اور منگل کو کھیل ہوا کرتا تھا۔ کافی عرصے سے ٹیسٹ میچوں میں ایک دن کے وقفے کا رواج نہیں ہے مگر شاید پاکستانی کھلاڑیوں کا یہ اصرار ہے کہ وقفہ بہت ضروری ہے۔ یا پھر یہ کہ یہ لوگ کچھ زیادہ ہی پیشہ ور ہو گئے اور چھٹی کے دن کھیلنے سے بالکل انکاری ہیں۔  | کمزور ٹیم ایک اننگز میں سو سے زیادہ رنز دینے کی جیسے پاکستانی بولروں کو عادت سی پر گئی ہے۔ چاہے وہ ضرورت سے زیادہ پراعتماد کنیریا ہوں ہوں یا پھر محض اپنے دوسرے ٹیسٹ میں کھیلنے والے محمد خلیل، سب رنز دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر کنیریا کا دل اچھی گیندیں کرنے کو چاہتا ہے تو سمیع ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر رزاق سے خدانخواستہ اچھی گیند ہو جائے تو ٹیم کے دوسرے گیند بازوں کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ سو باتوں کی ایک بات۔ پاکستان کی بولنگ کمزور ہے، بلکہ بہت کمزور ہے |
کولکتہ میں اتوار کو ہونے والے واقعہ سے ہرگز یہ مراد نہیں لینی چاہیئےکہ موہالی کا شاندار کھیل اچانک ہماری نظر سے اوجھل ہو گیا۔ وہ یقیناً ایک نہ بھولنے والا کھیل تھا اور ہمیں اسے سراہتے رہنا چاہیئے۔ مگر ہوا یہ کہ اس بیٹنگ نے سب پاکستانیوں کے دل میں ایک امنگ جگا دی اور بہت سے پاکستانیوں کا یہ خیال تھا کہ نو وکٹوں کی موجودگی میں کولکتہ میں ایک دن نکالنا پاکستان کے کے لیے کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہونا چاہیئے۔ اور جب پاکستان یہ میچ ہار چکا ہے، شکایتوں کا ایک انبار ہے، جسکا جواب بہرحال ایک ہی ہے۔ ہم ایک اچھی ٹیم سے ہارے ہیں اور غنیمت ہو گا اگر پاکستان صفر ایک سے یہ سیریز ہار کر واپس آ جائے۔ دیکھیے بات سیدھی سی ہے۔ اگر ہم کسی ٹیم کو کسی ایک بھی اننگز میں 400 رنز پر آْؤٹ نہیں کر سکتے تو ہمارے جیتنے کے امکانات اگر بالکل معدوم نہیں ہوتے تو بہت کم ضرور ہو جاتے ہیں۔ اب تک انڈیا تین اننگز کھیل چکا ہے اور ہر بار اس نے 400 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ ایک اننگز میں سو سے زیادہ رنز دینے کی جیسے پاکستانی بولروں کو عادت سی پڑ گئی ہے۔ چاہے وہ ضرورت سے زیادہ پراعتماد کنیریا ہوں یا پھر محض اپنے دوسرے ٹیسٹ میں کھیلنے والے محمد خلیل، سب رنز دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر کنیریا کا دل اچھی گیندیں کرنے کو چاہتا ہے تو سمیع ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر رزاق سے خدانخواستہ اچھی گیند ہو جائے تو ٹیم کے دوسرے گیند بازوں کا موڈ آف ہو جاتا ہے۔ سو باتوں کی ایک بات۔ پاکستان کی بولنگ کمزور ہے، بلکہ بہت کمزور ہے۔ وجوہات اس کمزوری کی چاہے کچھ بھی ہوں۔ انہی حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انڈیا کا میڈیا اپنی ٹیم کو بار بار یہ یاد دلاتا دکھائی دیتا ہے کہ میاں یہی وقت ہے پاکستان کو پوری طرح سے دبانے کا اور پچھلے سال پاکستان میں فتح کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنی بالادستی ثابت کرنے کا۔ میڈیا کی بے صبری کا اندازہ کولکتہ ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں تندولکر کے آؤٹ ہونے پر اخبارات اور ٹیلی ویژن کے تبصروں سے لگایا جا سکتا ہے۔ سب کے خیال میں تندولکر ناٹ آؤٹ تھے۔ اس کے علاوہ موہالی میں تندولکر ایمپائر کے ایک فیصلے کی وجہ سے دو باریاں لے گئے تھے لیکن اس وقت سچ کا پچاری یہ میڈیا کہاں چھپا بیٹھا تھا۔ اب بات نکلی ہے تو یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ انڈیا کی بیٹنگ کے بادشاہ کا اصل حقدار راہول ڈراوڈ ہے۔ کولکتہ کا میچ ڈراوڈ کے ٹیسٹ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیئے۔ |