BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 March, 2005, 15:15 GMT 20:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیریز بچانے کا آخری موقع

انیل کمبلے
کولکتہ میں انیل کمبلے نے پاکستان کی بیٹنگ تباہ کر دی تھی
پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ جمعرات سے بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔ کپتان انضمام الحق اسوقت اپنے سوویں ٹیسٹ کے سنگ میل سے زیادہ اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کی جائے۔ کولکتہ ٹیسٹ میں بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی195 رنز کی شکست پر منتج ہوئی تھی اور کپتان انضمام الحق کے پاس سیریز بچانے کا یہی موقع ہے۔

بنگلور ٹیسٹ کے لئے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کولکتہ ٹیسٹ میں غیرمتاثرکن بیٹنگ کرنے والے توفیق عمر کی جگہ یاسرحمید کو کھلائے جانے کا امکان ہے جبکہ وکٹ دیکھ کر محمد خلیل کی جگہ رانا نویدالحسن یا ارشد خان ٹیم میں شامل ہونگے۔

پاکستانی کوچ باب وولمر کا کہنا ہے کہ میچ سے دو دن پہلے وکٹ کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا درست نہیں ہوگا لیکن انہیں یہ بیٹنگ وکٹ دکھائی دیتی ہے جہاں پر گیند بہت سلو ٹرن لے گی اسی مناسبت سے ٹیم منتخب کی جائے گی۔

باب وولمر جو پاکستانی ٹیم کی اتارچڑھاؤ کی حامل کارکردگی کے نتیجے میں تنقید کی زذ میں رہتے ہیں خود پاکستانی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں کی کارکردگی خراب ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسوقت پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میں اچھا نہیں کھیل رہی ہے۔

کولکتہ ٹیسٹ کے بارے میں باب وولمر کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم ایک خاص وقت میں آکر برا کھیلی جس کے نتیجے میں میچ پر اس کی گرفت کمزور پڑگئی۔ کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہو۔

پاکستانی کوچ کہتے ہیں کہ کسی ایک کو شکست پر موردالزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔ پاکستانی بولنگ کے بارے میں وولمر کی رائے یہ ہے کہ یہ بہترین دستیاب اٹیک ہے لیکن ٹیسٹ میں جیت کے لئے بیس وکٹیں حاصل کرنی ہوتی ہیں اور اس کے لئے صحیح جگہ گیند کرنی پڑتی ہے۔

’ہمارے کرکٹر برے نہیں ہیں۔ اچھے کرکٹر ہیں لیکن ان میں بہتری لانی ہوگی۔ ان میں تجربے کی کمی ہے وسیم اکرم، وقار یونس، ثقلین مشتاق جیسے بولراس ٹیم میں نہیں ہیں۔ بڑا کرکٹر راتوں رات نہیں بن جاتا اس کے لئے محنت اور وقت دونوں درکار ہے‘۔

چناسوامی اسٹیڈیم بنگلور سے پاکستانی ٹیم کی ملی جلی یادیں وابستہ ہیں۔87-1986 میں اسی میدان پر عمران خان کی ٹیم نے بھارت کو سنسنی خیز انداز میں سولہ رنز سے ہراکر بھارتی سرزمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتی تھی جبکہ 1996 کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میچ میں وسیم اکرم کندھے کی تکلیف کی وجہ سے نہیں کھیلے تھے اور پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد تنازعات کا طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔

توفیق عمراتوار کو ’چھٹی‘
پاکستان ٹیم شاید اتوار کو کھیلنا ہی نہیں چاہتی
یوسف یوحنا اور یونس خانموہالی کانشہ نہیں اترا
پاکستان کی کارکردگی پر اشعر رحمان کا تبصرہ
سچن تندولکرپہلا رن یاد نہیں
’پہلا رن شاید وسیم یا وقار کے خلاف بنایا تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد