’بھارتی حکمت عملی ہمارے کام آئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کپتان انضمام الحق کو حیرت ہے کہ بھارتی ٹیم نے بنگلور ٹیسٹ کے آخری دن دفاعی حکمت عملی اختیار کی لیکن یہی پاکستان کے کام آئی اور انہوں نے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے میچ جیتا۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انضمام الحق نے کہا کہ کھانے کے وقفے پر صرف ایک وکٹ گری تھی جس پر وہ بے چین ہورہے تھے لیکن انہیں پتہ تھا کہ وکٹ کا رویہ ایک جیسا نہیں رہے گا۔ کھانے کے وقفے کے بعد انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ بھارت نے میچ جیتنے کے بجائے دفاعی انداز اختیار کرلیا ہے جس کا فائدہ انہیں پہنچا کیونکہ انہیں رن بچانے کی فکر ختم ہوگئی۔ انضمام الحق کہتے ہیں کہ ان کے بولرز نے بہت عمدہ بولنگ کی خاص کر شاہد آفریدی کی تین و کٹیں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئیں۔ پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ محمد سمیع ارشد خان اور دانش کنیریا نے بھی اس ’پریشر گیم‘ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ جیت پاکستان کرکٹ کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ وہ نسبتاً نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ یہاں آئی ہے لیکن ان نوجوان کھلاڑیوں نے تینوں ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کولکتہ ٹیسٹ پاکستان ٹیم بچاتے بچاتے رہ گئی۔ بھارتی کپتان سوروگنگولی نے کہا کہ پاکستانی بولرز کو جیت کا کریڈٹ جاتا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیٹسمینوں نے مایوس کن بیٹنگ کی حالانکہ پہلے سیشن میں صرف ایک وکٹ گری تھی۔ گنگولی کے خیال میں سہواگ کا آؤٹ ہونا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ گنگولی کا کہنا ہے کہ یہ شکست مایوس کن ہے لیکن ان کے کریئر کی بدترین شکست ہرگز نہیں کہی جاسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||