بھارت کو سرپرائز دیں گے: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ ان کی نوجوان ٹیم میزبان ٹیم کو ایک بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔ انضمام نے بھارت کے دورہ پر روانگی سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ بھارت اپنے ملک میں کھیلتے ہوئے دباؤ میں ہو گا۔گزشتہ برس ہم ہوم سیریز ہارے تھے اور اس بار بھارت کی باری ہے‘۔ 1999 کے بعد پاکستان کہ یہ پہلا دورۂ بھارت ہے اور یہ پاکستانی کپتان انضمام الحق کے لیے ایک امتحان بھی ہے۔ انضمام کو اکثر ان کے نرم رویہ اور کپتانی کے دفاعی انداز پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انضمام کو دورۂ آسٹریلیا میں دو ٹیسٹ میچ نہ کھیلنے پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دورۂ بھارت کے دوران بنگلور میں کھیلا جانے والا سیریز کا تیسرا ٹیسٹ انضمام کے کیرئیر کا سوواں ٹیسٹ ہوگا۔ انضمام کا کہنا تھا کہ ’ ہم بھارت کو بھارت میں ہرا سکتے ہیں اگر ہم ایک ٹیم کی صورت میں کھیلیں اور ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کریں۔ یہ میرے لیے اور پاکستانی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے‘۔ 1999 کے دورے میں پاکستان کی دو ٹیسٹ فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے انضمام نے کہا کہ ’ مجھے یاد ہے کہ وہ دو فتوحات وسیم کے لیے کتنی اہم تھیں جو کہ دورے سے قبل بہت دباؤ میں تھے۔ مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ایسی ہی فتوحات ملیں گی‘۔ لیکن انضمام یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی ٹیم 1999 کی ٹیم کے مقابلے میں مضبوط نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت ہماری ٹیم بہت تجربہ کار تھی تاہم میری نوجوان ٹیم نے بھی گزشتہ برس میں خصوصاً آسٹریلیا میں بہت سیکھا ہے‘۔ دنیا کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیے جانے والے انضمام نے 7052 رنز بنائے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ انہیں اس دورے میں اپنے بلے بازی کے جوہر دکھانے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ میں جانتا ہوں کہ بطور بلے باز مجھ پر اہم ذمہ داری ہے اور یہ بھارت میں ایک بڑی اننگز کتنی ضروری ہے۔‘ انضمام کو یہ بھی امید ہے کہ پاکستانی بالر شعیب اختر کی کمی محسوس نہیں ہونے دیں گے۔ اس سلسلے مںی ان کا کہنا تھا کہ ’ شعیب ساتھ ہوتے تو اچھا تھا تاہم اب ان کے زخمی ہونے کی صورت میں بقیہ بالروں کو یہ بوجھ اٹھانا ہوگا۔ کرکٹ ایک ٹیم کا کھیل ہے اور تمام گیارہ کھلاڑیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||