BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 April, 2004, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کی فتح، سیریز برابر

پاکستانی ٹیم
عمرگل کی پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے بھارتی ٹیم کی بساط 287 رنز پرلپیٹ دی تھی
بھارت کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان نے اپنی شانداد کارکردگی سے جیت لیا۔ ٹیم نے کھیل کے ہر شعبے میں اپنی حریف ٹیم کو آؤٹ کلاس کرکے پہلے ٹیسٹ میچ کا حساب بے باق کردیا۔

ملتان ٹیسٹ میں اننگز اور 52 رنز کی ہزیمت نے پاکستان کرکٹ کو مایوسی سے دوچار کردیا تھا اور عام خیال یہی تھا کہ لاہور ٹیسٹ میں کامیابی اس کے لئے آسان نہیں ہوگی لیکن قذافی اسٹیڈیم میں مختلف روپ میں دکھائی دینے والی پاکستان ٹیم اپنے شائقین کے مرجھائے ہوئے چہروں پر رونق واپس لوٹادی ہے ۔

پاکستان ٹیم چوتھے دن کھانے کے وقفے کے آدھے گھنٹے کے بعد 9 وکٹوں کی جیت پر ختم ہونے والے اس ٹیسٹ میں اسی وقت حاوی ہوگئی تھی جب ٹاس جیت کر ڈراوڈ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔ عمرگل کی پانچ وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے بھارتی ٹیم کی بساط 287 رنز پرلپیٹ دی تھی جس کے بعد انضمام الحق یوسف یوحنا اور اہم موقع پر عاصم کمال کی غیرمعمولی اننگز نے پاکستان کو میچ وننگ 202 رنز کی برتری دلادی تھی۔ جس کے بعد بھارتی ٹیم صرف 39 رنز کی سبقت حاصل کرکے اننگز کی شکست سے بچ گئی لیکن 9 وکٹوں کی شکست بہرحال اس کا مقدر بن گئی۔

ایسا بہت کم ہوا ہوگا کہ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بھارتی بیٹنگ ریت کی دیوار ثابت ہو۔ لاہور ٹیسٹ میں ایسا اس لئے ہوا کہ پاکستانی بولرز نے ملتان سے مختلف بولنگ کی۔ پہلی اننگز میں عمرگل کے مہلک وار نے بھارتی بیٹسمینوں کے چراغ گل کئے تو دوسری اننگز میں شعیب اختر کے ایک مؤثر اسپیل نے مہمان بیٹنگ لائن پر کاری ضرب لگائی۔سہواگ پارتھی پٹیل اور اگرکار کی مزاحمت بھی کام نہ آسکی۔

شعیب اختر
شعیب اختر نے سہواگ کو آوٹ کر کے میچ پر پاکستان کی گرفت مزید مضبوط کر دی

کپتان انضمام الحق اس جیت پر جتنے خوش ہیں سابق کرکٹرز کی تنقید پر اتنے ہی خفا بھی ہیں۔ یہی حال کوچ جاویدمیانداد کا بھی ہے جنہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید سے دلبرداشتہ ہوکر کوچ کا عہدہ چھوڑنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں ٹیم کی ہمت بڑھانے کے بجائے سابق کرکٹرز نے غیرضروری اور منفی تنقید کرکے انہیں مایوسی میں مبتلا کردیا تھا اگر وہ ہارجاتے تو کپتانی چھوڑنے کی بات ان کے منہ سے اچھی نہیں لگتی لیکن پاکستان ٹیم چونکہ جیت گئی ہے لہذا وہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اس مشکل صورتحال میں ان کے لئے قیادت جاری رکھنا بہت مشکل ہے۔

انضمام الحق بولنگ کی کارکردگی سے اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ شعیب اختر ردھم میں آرہا ہے لیکن اس نے جو بولنگ کی ہے وہ اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انضمام الحق دوسری اننگز میں اپنے ہم منصب ڈراوڈ کے رن آؤٹ ہونے کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ سمجھتے ہیں انہیں خوشی ہے کہ سچن ٹنڈولکر دونوں اننگز میں جلد پاکستانی بولرز کے قابو میں آگئے ان کا کہنا ہے کہ اگلی دو اننگز میں بھی سچن کے بلے سے رنز نہ ہوں تو ان کے لئے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

راہول ڈریوڈ کے خیال میں شکست کا سبب 150 رنز کا فرق ہے۔ امپائرنگ کے سوال پر جو ان سے پریس کانفرنس میں پوچھا گیا، بھارتی کپتان نے کہا کہ ملتان میں ہم اچھا کھیلے تھے اور جیتے تھے، لاہور میں پاکستان ٹیم اچھا کھیلی اور جیت گئی۔

سیریز برابر ہونے کے بعد راولپنڈی ٹیسٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت کو فیصلہ کن ٹیسٹ میں کپتان سورو گنگولی کی خدمات حاصل ہوں گی جو فٹ ہوکر پاکستان واپس آگئے ہیں ان کی جگہ ٹیم میں شامل کئے جانے والے یوراج سنگھ سنچری سے ٹیم میں اپنی پوزیشن مستحکم کرچکے ہیں لہذا آکاش چوپڑا کے ڈراپ ہونے کا امکان ہے۔ شبیراحمد کے فٹ ہونے کی صورت میں پاکستانی سلیکٹرز کے پاس یہی ایک راستہ ہوگا کہ مسلسل غیرمتاثر کن کارکردگی دکھانے والے محمد سمیع کو باہر بٹھایا جائے۔ کپتان انضمام الحق پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ صرف ناموں پر کرکٹ نہیں ہوسکتی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد