یورو 2016: سچی مسرت، حقیقی مایوسی

انگلینڈ نے آئس لینڈ کے خلاف ’شرمناک‘ کھیل کا مظاہرہ کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ نے آئس لینڈ کے خلاف ’شرمناک‘ کھیل کا مظاہرہ کیا
    • مصنف, احمر نقوی
    • عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار

کھیل کا ایک دلکش پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے زندگی کی دونوں انتہائیں یکجا ہو جاتی ہیں۔

ہر ٹورنامنٹ یا لیگ کا ایک ہی فاتح ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ شائقین کی بڑی تعداد کو شکست اور مایوسی کی حقیقت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی جیت کے لمحات میں کھیل شائقین کو حقیقی مسرت اور شادمانی کے جذبات سے روشناس کرواتا ہے۔

تاہم کھیلوں کے بارے میں لکھنے کے قواعد مختلف ہوتے ہیں۔ شکستوں اور ناکامیوں کے بارے میں لکھنا آسان ہوتا ہے، کیوں کہ بےعیب کوئی نہیں اور ہر ایتھلیٹ کامل بننے کا خواہاں ہوتا ہے۔

ان دو چیزوں کے درمیان موجود خلیج سے لکھنے والے کو بہت سا مواد مل جاتا ہے لیکن جب کھیلوں کے تجزیہ نگار کو کسی حقیقی جادوئی لمحے کو بیان کرنا پڑ جائے تو الفاظ جذبات کا ساتھ دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔

تو پھر کوئی لکھنے والا یورو کپ کے دوسرے راؤنڈ میں آئس لینڈ کی انگلینڈ پر یادگار فتح کا احوال کیسے رقم کرے؟

بہت سوں نے دونوں ملکوں کی آبادیوں کا تقابل کیا ہے، لیکن سچی بات یہ ہے کہ انگلینڈ نے بےحد کمزور کھیل پیش کیا اور وہ اس سے زیادہ کے حقدار بھی نہیں تھے۔

فرانس آئرلینڈ سے ہارتے ہارتے بچا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس آئرلینڈ سے ہارتے ہارتے بچا

اگر آپ آئس لینڈ کی ننھی منی آبادی اور وہاں فٹبال کی روایت کے فقدان کو نظر انداز بھی کر دیں، تب بھی میچ کے دوران وہ زیادہ بہتر، زیادہ منظم ٹیم تھی اور اسے ہی جیتنا چاہیے تھا۔

جہاں تک کھیل کی خبروں کا تعلق ہے تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی۔

اگر آئرلینڈ 2010 میں ہینری کے ہینڈبال کا انتقام لیتے ہوئے میزبان فرانس کو ٹورنامنٹ سے نکال باہر کرتا تو ایسی ہی ایک اور داستان بھی رقم ہو سکتی تھی اور میچ کے ایک گھنٹے تک کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔ تاہم انتوئن گرائزمین نے اپنی صلاحیتوں کی مدد سے فرانس کو اس خجالت سے محفوظ رکھا۔

پرتگال نے اس مرحلے پر ولن کا کردار ادا کرتے ہوئے کروئیشیا کے خلاف انتہائی منفی کھیل پیش کیا۔ میچ کے آخری لمحات میں کہیں جا کر وہ گول کر سکے۔

پرتگال نے کروئیشیا کے خلاف انتہائی منفی کھیل پیش کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپرتگال نے کروئیشیا کے خلاف انتہائی منفی کھیل پیش کیا

کروئیشیا میں گول کرنے اور میچ کو میچ بنانے کی خواہش کہیں زیادہ تھی، لیکن وہ بھی اس مرحلے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ اس بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ ٹیم جس نے سپین کی دھجیاں بکھیر دی تھیں، وہ ڈگمگاتے، لڑکھڑاتے پرتگال کے سامنے اپنا اصل روپ بھول گئی۔

سپین کا ذکر چل نکلا ہے تو ان کا بطور چیمپیئن آٹھ سالہ دور اٹلی کے ہاتھوں بڑے بےرحمانہ طریقے سے اختتام کو پہنچ گیا، جنھوں نے نہ صرف سپین کو کھیل کے میدان میں بلکہ ذہنی میدان میں بھی شکستِ فاش سے دوچار کیا۔

اٹلی کے کوچ انتونیو کونتے نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم میں صلاحیت کی کمی ہے، لیکن ان کے پاس منصوبہ بندی کی کمی نہیں تھی جس نے ٹیم کو جتوا دیا۔

سپین کی ٹیم اب تک دوسروں کے لیے مثال کی حیثیت رکھتی تھی لیکن وہ بجھی بجھی نظر آئی اور میچ کے دوران ایسا لگتا تھا جیسے جیت کا مارجن دو صفر سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے تھا۔

جرمنی کے کھیل میں ہر میچ کے بعد نکھار آتا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجرمنی کے کھیل میں ہر میچ کے بعد نکھار آتا جا رہا ہے

اب اٹلی کو کوارٹر فائنل میں جرمنی کے خلاف یہی معیار برقرار رکھنا ہو گا، جن میں ہر میچ کے دوران بہتری آتی جا رہی ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس نے سلوواکیا کو تین صفر کی شکست سے دوچار کیا۔

دوسری جانب پولینڈ کا آمنا سامنا پرتگال سے، جب کہ ویلز بیلجیئم سے مدِمقابل ہو گا۔

بیلجیئم نے آہستہ آہستہ اس ٹورنامنٹ کی چھپی رستم ٹیم کا کردارنبھانا شروع کر دیا ہے، جب کہ ویلز کے بارے میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ جس قدر اوپر جا سکتے تھے، چلے گئے ہیں۔

لیکن یہ سب کچھ کہنے کے باوجود عین ممکن ہے کہ فٹبال کا کھیل ایک بار پھر تجزیہ نگاروں کو سر کھجانے پر مجبور کر دے۔