ضروری نہیں ’بڑے لڑکے‘ ہی چیمپیئن بنیں

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, احمر نقوی
    • عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار

مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ یورو 2016 پر میرا تجزیہ اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک میں یورپی یونین میں برطانیہ کی شمولیت یا اخراج کے بارے میں ہونے والے ریفرنڈم کے بارے میں کچھ کہہ نہ لوں۔

سمجھ نہیں آ رہا کہ زیادہ حیرت انگیز بات کیا ہو سکتی تھی؟ یہ کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل جانے کا فیصلہ کر لےگا یا یہ کہ جزائر برطانیہ کی جانب سے ٹورنامنٹ میں حصہ لینی والی ہر ٹیم یورو 2016 کے دوسرے مرحلے میں پہنچ جائےگی؟

آج جب ان مقابلوں کا دوسرا مرحلہ ’راؤنڈ آف 16‘ شروع ہو گیا ہے تو ہمارے سامنے اس مرحلے کےدلچسپ میچوں کی فہرست پڑی ہوئی ہے۔

ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے بہت سے لوگ کہہ رہے تھے کہ اس میں اتنی زیادہ ٹیموں کی شمولیت کا نتیجہ یہ نکلےگا کہ کئی میچ خاصے پھسے پھسے رہیں گے۔

اور پھر پہلے مرحلے کے میچوں میں کم گولوں کی اوسط سے بھی یہی لگا کہ لوگوں کا یہ خدشہ درست ہی تھا۔

اگر انگلینڈ آئس لینڈ کو اپنے گول سے دور رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کا مقابلہ فرانس سے ہوگا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر انگلینڈ آئس لینڈ کو اپنے گول سے دور رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کا مقابلہ فرانس سے ہوگا

لیکن اور چیز نے اس خدشے کا مداوا کر دیا۔ وہ یہ کہ جن ٹیموں کو اگلے مرحلے میں جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ وہی ٹیمیں تھیں جنھیں یورو 2016 کی فیورٹ ٹیمیں سمجھا جا رہا ہے۔ مثلاً فرانس کو اپنے میچ جیتنے کے لیے آخری منٹوں میں گول کرنے کی ضرورت پڑ گئی، ایک میچ ڈرا ہو جانے کے بعد لگتا یہی تھا کہ جرمنی کی بھی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پچھلے یورپی ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلنے والی ٹیمیں، یعنی اٹلی اور سپین بھی پہلے مرحلے میں ایک ایک میچ ہار گئیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگلے مرحلے میں تمام فیورٹ ٹیمیں ایک گروپ میں آ گئی ہیں اور ان کا مقابلہ اپنے گروپ میں ایک دوسرے سے ہونے جا رہا ہے۔ یوں اس مرتبہ اٹلی اور سپین کا ٹکراؤ فائنل سے پہلے ہی ہونے جا رہا ہے۔

اور لگتا ہے کہ اٹلی اور سپین میں سے جو ٹیم یہ میچ جیتے گی اس کا ٹکراؤ موجودہ عالمی چیمپین جرمنی سے ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمن ٹیم نے پچھلے دس سالوں میں شائقین کو اپنے تیز اور خوبصورت فٹبال سے کئی مرتبہ محظوط کیا، لیکن پہلے مرحلے میں کئی مرتبہ ایسا لگا کہ یہ ٹیم بھی کسی خاص کارکردگی کا مظاہر نہیں کر پائی اور اس مرحلے میں صرف تین گول ہی کر سکی۔

دوسری جانب اپنے گروپ میں دوسرے نمبر پر آنے والی انگلینڈ کی ٹیم کا مقابلہ آئس لینڈ سے ہوگا، جو کہ خاصا دلچسپ ہو سکتا ہے۔

پہلے مرحلے میں جمہوریہ آئرلینڈ اٹلی کو شکست دے چکا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنپہلے مرحلے میں جمہوریہ آئرلینڈ اٹلی کو شکست دے چکا ہے

کمنٹریٹرز ہمیں یہ بات بتاتے تھکے نہیں کہ اس چھوٹے سے ملک کی آبادی اتنی کم ہے کہ اس کی آٹھ فیصد عوام اپنی ٹیم کو دیکھنے فرانس پہنچ چکی کی ہے۔

اگر انگلینڈ آئس لینڈ کو اپنے گول سے دور رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس کا مقابلہ فرانس سے ہوگا، مگر یہ اسی صورت میں ہوگا جب فرانس جمہوریہ آئر لینڈ کو ہرا دے۔

اور جب بات آئر لینڈ کی ہو تو سنہ 2010 کے ٹورنامنٹ میں فرانس اور جمہوریہ آئرلینڈ کے میچ میں فرانسیسی کھلاڑی تھیری ہینری کے متنازع ہینڈ بال کے ذکر کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے آئر لینڈ کے عالمی کپ میں شمولیت کے امکانات ختم ہو گئے تھے۔ اس مرتبہ بھی توقع یہی ہے کہ فرانس اور جمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔

بڑی فیورٹ ٹیموں کے ایک گروپ میں آ جانے کے بعد، دوسرے گروپ میں قدرے غیر معروف ٹیموں کے لیے میدان کھلا ہے، اور عین ممکن ہے کہ ان میں سے ایک دو ٹیمیں فٹبال کی تاریخ کی پریوں کی کہانیوں کا حصہ بن جائیں۔

مثلاً کروئشیا کی ٹیم جس نے سنہ 2010 میں چِلّی کی ٹیم کی طرح سپین کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

کروئیشیا کے بعد ہنگری کا ذکر بھی ضروری ہے جس کا شمار ایک وقت یورپ کی مشہور ترین ٹیموں میں ہوتا تھا۔ گذشتہ سالوں میں سخت محنت کرنے والی ہنگری کی موجود ٹیم کی قسمت بھی جاگ سکتی ہے۔

ج جب یورپ میں سیاسی بھونچال آ ہی رہے ہیں تو کیا عجب فٹبال میں بھی کچھ نیا ہو جائے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنج جب یورپ میں سیاسی بھونچال آ ہی رہے ہیں تو کیا عجب فٹبال میں بھی کچھ نیا ہو جائے

اور پھر ویلز کی ٹیم، جسے انگلینڈ سے افسوسناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس میچ میں بھی ویلز نے جس ذہانت اور جذبے کا مظاہر کیا وہ قابل دید تھا۔

اِن ٹیموں میں سے کوئی بھی ٹیم اور اس گروپ میں شامل باقی ٹیموں میں سے ہر ٹیم اپنے گروپ میں جیت سکتی ہے۔ اور پھر ان کا ٹکراؤ ’بڑے لڑکوں‘ سے ہوگا اور اس لڑائی کے بعد آخری مقابلے میں صاف ظاہر ہے کہ دو بہترین ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔

آج جب یورپ میں سیاسی بھونچال آ ہی رہے ہیں تو کیا عجب فٹبال میں بھی کچھ نیا ہو جائے اور اس مرتبہ یورو 2016 بھی کوئی ایسی ٹیم جیت جائے جو اس سے پہلے کبھی یورپی چیمپئن نہ بنی ہو۔