پشاور زلمی کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پر فتح

،تصویر کا ذریعہPSL
پاکستان سپر لیگ میں اتوار کو کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی۔
شارجہ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 129 رنز سکور کیے۔
جواب میں پشاور زلمی نے 18.4 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر یہ ہدف حاصل کر لیا۔
اس میچ کی خاص بات پشاور کے کپتان شاہد آفریدی کی عمدہ بولنگ تھی۔
انھوں نے چار اوورز میں آٹھ رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی بہترین بولنگ ہے۔
گلیڈی ایٹرز کے بلے باز اس میچ میں آفریدی کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور چھ بلے بازوں کا سکور دہرے ہندسوں میں بھی داخل نہیں ہو سکا۔
ایک موقع پر گلیڈی ایٹرز کے نو کھلاڑی محض 66 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے لیکن پھر گرانٹ ایلیئٹ اور ذوالفقار بابر نے دسویں وکٹ کے لیے ٹی 20 کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی شراکت قائم کی۔
ان دونوں نے آخری وکٹ کے لیے 63 رنز کا اضافہ کیا۔ ایلیئٹ نے 29 گیندوں میں تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 40 رنز جبکہ ذوالفقار بابر نے 11 گیندوں میں 20 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔
130 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پشاور کی جانب سے ڈی جے ملان نے52 گیندوں میں چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 60 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کی فتح کی راہ ہموار کر دی۔
اس میچ کے آغاز میں گلیڈی ایٹرز کے احمد شہزاد اور زلمی کے بولر وہاب ریاض میں تلخ کلامی ہوئی۔
انھوں نے ایک دوسرے کو دھکے اس وقت دیے جب ایک گیند پر احمد شہزاد نے وہاب کو چھکا مارا اور دوسری گیند پر وہاب نے احمد کو بولڈ کردیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز
اتوار کے پہلے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کو پانچ وکٹوں سے شکستے دی۔
لیگ کے 16ویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تو کراچی کنگز نے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 128 رنز بنائے۔
کراچی کنگز کی اننگز کا آغاز مایوس کن تھا اور تین کے سکور پر اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔
تاہم اس کے بعد روی بوپارا اور مشفیق الرحیم کی عمدہ بیٹنگ کی وجہ سے ٹیم مقررہ 20 اوورز میں رنز 128 بنا سکی۔
دونوں نے بالترتیب 45 اور 33 رنز بنائے۔
کراچی کنگز کی طرح اسلام آباد یونائیٹڈ کا آغاز بھی اچھا نہیں تھا اور نو کے مجموعی سکور پر اس کے دو کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔
تاہم بعد میں خالد لطیف اور مصباح الحق نے اننگز کو سہارا دیا جبکہ آخری اوورز میں آصف علی نے 15 گیندوں پر 25 رنز بنا کر ٹیم کو 18 اعشاریہ 3 اوورز میں ہی پانچ وکٹوں سے جیت دلا دی۔
ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی پوزیشن
اس وقت پشاور زلمی کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر سات میچوں میں دس پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بھی سات میچوں میں دس پوائنٹس ہی ہیں تاہم خراب رن اوسط کی وجہ سے اس کا نمبر دوسرا ہے۔
تیسری پوزیشن پر اسلام یونائیٹڈ ہے جس نے سات میچ کھیلے اور تین فتوحات کے بعد اس کے چھ پوائنٹس ہیں۔
کراچی کنگز نے سات میچ کھیلے ہیں اور اسے پانچ میں شکست ہوئی جبکہ اس وقت ٹیبل پر چوتھی پوزیشن پر ہے۔
آخری پوزیشن پر لاہور قلندرز ہے جس نے چھ میچوں میں سے دو کامیابی حاصل کی ہے۔



