’قطر فٹبال عالمی کپ کی میزبانی سے محروم نہیں ہوگا‘

قطر فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میزبانی کا حق حاصل کرنے کےطریقہ کار کے حوالے سے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنقطر فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میزبانی کا حق حاصل کرنے کےطریقہ کار کے حوالے سے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

قطر نے ان خدشات کو رد کر کیا ہے کہ وہ فیفا کے بدعنوانی کے الزامات کے باعث سنہ2022 کے فٹبال عالمی کپ کی میربانی کے حق سے محروم ہوسکتا ہے۔ قطر نے عرب مخالف ’تعصب‘ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

<link type="page"><caption> بلیٹر کے استعفے کے بعد فیفا کا مستقبل کیا؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150603_blatter_resignation_questions_rwa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ہم نے فیفا کو رشوت نہیں دی: جنوبی افریقہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/06/150603_south_africa_denies_bribe_rwa" platform="highweb"/></link>

واضح رہے کہ سوئس استغاثہ سنہ 2022 میں قطر اور سنہ 2018 میں روس کو عالمی کپ کی میزبانی کا حق کے دیے جانے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

قطر کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خالد العطیہ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہےـ انھوں نے اس خدشات کو بھی رد کیا کہ فیفا بدعنوانی کے سکینڈل کے باعث قطر میزبانی کے حق سے محروم ہو سکتا ہے۔

قطر فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میزبانی کا حق حاصل کرنے کےطریقہ کار کے حوالے سے ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

اس سے قبل انگلش فٹبال ایسوسی کے سربراہ گریگ ڈائیک کا کہنا تھا کہ قطر کو عالمی کپ کی میزبانی کے لیے دوبارہ ووٹنگ ہونا چاہیے۔

قطر کے ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ بدعنوانی کی تحقیقات کے تناظر میں ایف بی آئی نے ان سے رابطہ نہیں کیا ہے۔

امریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی انکوائری کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی انکوائری کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے

اس سے قبل جنوبی افریقہ نے سنہ 2010 کے فٹبال کے عالمی کپ کو جنوبی افریقہ میں منعقد کروانے کے لیے فیفا کو ایک کروڑ ڈالر رشوت دینے کی تردید کی ہے۔

جنوبی افریقہ کے کھیلوں کے وزیر فیکیلے امبالولا نے کہا ہے کہ یہ رقم کیریبیئن میں افریقی تارکین وطن میں فٹ بال کو فروغ دینے کے ارادے سے دی گئی تھی اور جائز تھی۔

امریکی استغاثہ نے گذشتہ ہفتے فٹبال میں مجرمانہ تحقیقات شروع کی تھیں اور اس کے تحت 14 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے منگل کو کہا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں جبکہ اس سے صرف دو دن قبل انھیں پانچوں بار فیفا کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔

امریکہ کی جانب سے جن 14 افراد پر ریکٹیئرنگ اور غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین کے الزمات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی ان میں سے فیفا کے سات جونیئر اہلکاروں کے علاوہ دو نائب صدور تھے۔

ان 14 ملزمان کےگروپ میں سے سات کو سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب انٹرپول نے فیفا کے دو سابق اہلکاروں کے خلاف مطلوب افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں جیک وارنر بھی شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندوسری جانب انٹرپول نے فیفا کے دو سابق اہلکاروں کے خلاف مطلوب افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں جیک وارنر بھی شامل ہیں

امریکی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ 14 افراد عالمی سطح پر زیرِ تفتیش تھے اور ان پر 24 سال کے عرصے کے دوران 15 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ رشوت اور کمیشن لینے کا الزام ہے۔

امریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ انھیں فیفا کے بعض ایسے عہدیداروں سے تعاون کی امید ہے جنھیں غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین اور ریکٹیئرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ان کی بنیاد پر سیپ بلیٹر کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔

امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ جنوبی افریقہ نے سنہ 2010 کے فٹبال کے عالمی کپ کی بولی کی حمایت کرنے کے لیے فیفا کے سابق نائب صدر جیک وارنر اور دیگر ارکان کو ایک کروڑ ڈالر کی رشوت دی تھی۔

فیکیلے امبالولا نے بدھ کو پریس کانفرنس میں ان الزامات کی ’قطعی ترید‘ کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہم امریکہ اور فیفا حکام کی لڑائی کو مسترد کرتے ہیں۔‘

امبالولا کے مطابق جنوبی افریقہ کی حکومت امریکی تفیشں میں تعاون کرے گی۔

دوسری جانب انٹرپول نے فیفا کے دو سابق اہلکاروں کے خلاف مطلوب افراد کی فہرست جاری کی ہے جن میں جیک وارنر بھی شامل ہیں۔