فیفا کے صدر سیپ بلیٹر امریکہ میں شاملِ تفتیش

سیپ بلیٹر 17 برس تک فیفا کے صدر رہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسیپ بلیٹر 17 برس تک فیفا کے صدر رہے

امریکی حکام نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی انکوائری کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ خبر سیپ بلیٹر کے اس اعلان کے بعد آئی ہے جس کے مطابق وہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر کا عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔

امریکی استغاثہ نے گذشتہ ہفتے مجرمانہ تحقیقات شروع کی تھیں اور اس کے تحت 14 ملزمان کےگروپ میں سے سات کو سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان گرفتاریوں کے دو دن کے بعد مسٹر بلیٹر کو فیفا کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔

تاہم انھوں نے منگل کو کہا کہ انھیں جو اختیار ملا تھا ’اس کی بظاہر دنیا بھر میں حمایت نہیں کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فیفا میں وسیع تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔‘

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ انھیں فیفا کے بعض ایسے عہدیداروں سے تعاون کی امید ہے جنھیں غیر قانونی طور پر پیسے کے لین دین اور ریکٹیئرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ان کی بنیاد پر مسٹر بلیٹر کے خلاف مقدم دائر کریں گے۔

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ نے فٹبال میں گہری بدعنوانی کا سراغ لگایا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ نے فٹبال میں گہری بدعنوانی کا سراغ لگایا ہے

نیویارک میں بی بی سی کے نمائندے نک برائنٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ نے کہا تھا کہ یہ تفتیش کا آغاز ہے اختتام نہیں۔

انھوں نے بلیٹر کے پانچویں بار صدر منتخب ہونے سے قبل فیفا سے نئے آغاز کی اپیل کی تھی۔

نک برائنٹ کے مطابق امریکی تفتیش کی وجہ سے ہی فٹبال کا یہ عالمی ادارہ اپنی تاريخ کے سب سے شدید بحران سے دوچار ہے۔

اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی، انٹرنل ریوینو سروس اور نیویارک کے مشرقی ضلعے کے اٹارنی جنرل نے بلیٹر کے استعفے کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا تھا۔

امریکی وزارت انصاف نے کہا ہے کہ 14 افراد عالمی سطح پر زیر تفتیش تھے اور ان پر 24 سال کے عرصے کے دوران 15 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ رشوت اور کمیشن لینے کا الزام ہے۔

زیورخ میں گرفتار کیے جانے والوں میں فیفا کے دو نائب صدور شامل ہیں اور اب انھیں امریکہ لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

برازیل کے فٹبال کے مایہ ناز کھلاڑی پیلے نے بی بی سی کو بتایا کہ فیفا اور سیپ بلیٹر کے متعلق واقعات نے ’سب کو حیران کر دیا ہے۔

برازیل کے ممتاز کھلاڑی پیلے نے فیفا میں ایماندار افراد کے آنے پر زور دیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبرازیل کے ممتاز کھلاڑی پیلے نے فیفا میں ایماندار افراد کے آنے پر زور دیا

’میری حیثیت ایک کھلاڑی کی سی ہے۔ میں فٹبال کو لوگوں کو ایک ساتھ لانے والے کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں، لڑنا بند کرو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فیفا کو ایماندار افراد کی ضرورت ہے۔‘

فیفا کے حکام کے مطابق اب سیپ بلیٹر کے جانشین کے انتخاب کے لیے فیفا کی غیر معمولی کانگریس دسمبر 2015 سے مارچ 2016 کے درمیان منعقد ہو سکتی ہے۔

فیفا کو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان تمام لوگوں پر الزام ہے کہ وہ رشوت، تاجروں سے زبردستی رقمیں بٹورنے اور کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث رہے ہیں اور انھوں نے سنہ 1991 کے بعد سے فیفا میں کروڑوں ڈالر کے گھپلے کیے ہیں۔

یاد رہے کہ مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد فٹبال کی یورپی تنظیم ’یوئیفا‘ کے صدر میشل پلاٹینی نے سیپ بلیٹر پر زور دیا تھا کہ وہ نئے انتخابات سے پہلے تنظیم کی صدارت سے مستعفیٰ ہو جائیں۔

البتہ سیپ بلیٹر نے انتخاب سے دستبردار ہونے کا مشورہ یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ ’اب بہت دیر ہو گئی ہے۔‘